خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 395

*1946 395 خطبات محمود ہمارے لحاظ سے مغرب ہے۔اس میں مصر کی حکومت ہے، شام کی حکومت ہے، فلسطین ، عرب اور عراق کی حکومتیں ہیں۔ایران، افغانستان کی حکومتیں ہیں۔ان سب ممالک کی مجموعی آبادی چھ سات کروڑ ہے لیکن یہ سب تقسیم شدہ علاقے ہیں۔مصر کی آبادی ایک کروڑ استی لاکھ کے قریب ہے۔یہ ایک خود مختار علاقہ ہے۔پھر شام اور لبنان کے علاقے ہیں۔شام قریبا گلی طور پر اور لبنان قریباً نصف مسلمان ہے۔یہ علاقے گو عربی تحریک سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اپنی آزادی کو برقرار رکھنے پر مُصر ہیں۔پھر لڑکی ہے اُسے ان عربی علاقوں سے اس قدر اختلافات تھے کہ قریباً بتیس سال سے وہ ان ممالک سے بالکل روٹھا رہا ہے۔اب قدرے ٹرکی کے رویہ میں تبدیلی ہوئی ہے۔تمام عربی علاقوں کو ملا لیا جائے تو ان کی آبادی دو اڑھائی کروڑ کے قریب ہے۔لیکن صرف عربی ممالک میں مصر کے سواسات حکومتیں ہیں اور ان میں سے بعض بعض کی رقیب ہیں اور وہ ایک دوسری سے پوری طرح تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ایران آبادی کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے اور اس میں شیعیت کی وجہ سے اور دوسرے قومی تفرقہ وشقاق کی وجہ سے اُبھرنے کے سامان موجود نہیں۔اس سے بھی کسی اسلامی علاقہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔افغانستان سنتی ہے لیکن چھوٹا ملک ہے اور تعلیم اور صنعت و حرفت میں بہت پیچھے۔اس سے بھی امید نہیں کی جاسکتی کہ باوجود اُبھرنے کے دوسرے ممالک کی حمایت کر سکے۔روس کے مسلمانوں کے متعلق بھی اُبھرنے کی فی الحال کوئی امید نہیں کیونکہ وہ ایک ایسی حکومت کے ماتحت ہیں جس نے ان کی مذہبی اور قومی آزادی چھین لی ہے اور ان کی ترقی کے راستے مسدود کر دیئے ہیں۔ہندوستان میں مسلمان بھاری اقلیت میں ہیں اور یہاں کے مسلمان اس وقت ایسی پوزیشن میں ہیں کہ ان کی آواز غیروں کے مقابلہ پر کوئی خاص اثر نہیں رکھتی اور خصوصاً مسلمانوں کی غیر ملکی آواز تو نہ ہونے کے برابر ہے۔غیر ملکی گورنمنٹوں پر اثر ڈالنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اکثریت ایک آواز کی تائید میں ہو۔ورنہ اقلیت کی آواز فارن گورنمنٹوں پر کوئی اثر نہیں کرتی۔چین میں آٹھ دس کروڑ کے قریب اور تازہ یورپین اعداد و شمار کے لحاظ سے اڑھائی تین کروڑ مسلمان ہیں۔بہر حال وہ ملک کی آبادی کا چھٹا ساتواں حصہ ہیں اس لئے غیر ممالک میں ان کی کوئی آواز نہیں۔غرض جس قدر علاقے میں نے گنوائے ہیں