خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 394

*1946 394 خطبات محمود امکان صرف ایک دو فیصدی ہو گا۔لیکن اس کے مقابل پر اگر اس میں اتفاق رہا تو اس کی کامیابی کا امکان پانچ دس فیصدی ہے تو اس حالت میں اس کے لئے خاموش رہنا ہی بہتر ہو گا۔اس وقت مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ کسی بات کا صحیح نقشہ ذہن میں نہیں رکھتے اور ان کی یہ عادت ہو چکی ہے کہ اول تو وہ سوچتے ہی نہیں اور اگر سوچیں تو پھر بالکل جذباتی سیکیم سوچتے ہیں جس کا چلانا ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔اس وقت مسلمان نہایت پراگندگی اور تشتت کی حالت میں ہیں اور ان کی کئی قسمیں ہیں۔یورپ کے مسلمان، ایشیائی مسلمانوں سے بالکل الگ ہیں۔گو ان کی تعداد ایشیائی ممالک کے مقابلہ میں بالکل کم ہے۔لیکن اگر وہ بھی ایشیائی مسلمانوں سے متحد ہوں تو اس اتحاد سے یورپین ممالک اور ایشیائی ممالک دونوں کے مسلمانوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔میر اخیال ہے کہ یورپین ممالک میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے۔پولینڈ میں کئی لاکھ مسلمان ہیں ، رومانیہ میں کئی لاکھ مسلمان ہیں، یوگو سلاویہ اور البانیہ میں کئی لاکھ مسلمان ہیں۔اسی طرح یورپین ٹرکی اور یونان میں کئی لاکھ مسلمان ہیں۔ممکن ہے کہ ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہوں۔لیکن یہ سارے کے سارے مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں ہیں اور اسلامی تعلیم سے بالکل ناواقف ہیں۔وہ مغربی تعلیم کو ہی اپنا لائحہ عمل سمجھتے ہیں اور اسلامی تعلیم سے اس قدر دور جاچکے ہیں کہ اسلامی تعلیم ان میں رسم وعادت بن کر رہ گئی ہے۔لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ وہ مرتد نہیں ہوتے۔وہ اپنی قوم مسلمان سمجھتے ہیں اور کوئی شخص اپنی قومیت تبدیل کرنا پسند نہیں کرتا۔اس لئے وہ بھی اسلام کو نہیں چھوڑتے اور یہ چیز ان کی حفاظت کر رہی ہے۔وہ عملاً عیسائیت اور دہریت کے اصولوں پر کاربند ہیں لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ کون ہیں؟ تو فخریہ طور پر کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں۔ان کے نزدیک اسلام ایک قوم کا نام ہے ، مذہب کا نام نہیں کیونکہ وہ مذہب کے متعلق تو جانتے ہی کچھ نہیں۔وہ اسلام کے نام پر اکٹھے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا سیا سی جتھا اسلام کے نام سے ہی قائم رہ سکتا ہے۔اس کے بعد مغربی افریقہ ہے۔اس میں بھی بڑی بھاری تعداد میں مسلمان ہیں لیکن وہ بہت گری ہوئی حالت میں ہیں اور ان سے یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی اسلامی ملک کی تائید میں شور مچائیں گے۔شمالی افریقہ کے بعد مشرق قریب ہے جو