خطبات محمود (جلد 27) — Page 391
*1946 391 خطبات محمود کہ ان کا اندازہ عام طور پر صحیح ہوتا ہے لیکن بعد میں جغرافیہ کو غور سے پڑھنے سے معلوم ہوا کہ ان کا یہ اندازہ صحیح نہیں ہے بلکہ مسلمان چالیس کروڑ بلکہ اب تو اس سے بھی زیادہ ہیں۔لیکن اگر چالیس کروڑ ہی سمجھے جائیں تو بھی یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ جو دنیا کی اکثر اقوام سے زیادہ ہے۔آج بھی مسلمان اگر تبلیغ کی طرف توجہ کریں تو وہ بہت جلد اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور دنیا ان کے مقابلہ سے قاصر رہ جائے۔غیر مذاہب میں رکھا ہی کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِینَ 1 کہ کئی بار کفار کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش! یہ عقیدے ہمارے ہوتے اور یہ تعلیم ہماری ہوتی۔کفار کی یہ خواہش ایک طبعی خواہش تھی جو ہر زمانہ کے کفار کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیم کا مقابلہ ناممکن ہے۔لیکن ان کو ارد گرد کی بے بنیاد روایتیں سہارا دیئے رکھتی ہیں اور وہ ایک قوم اور ایک سوسائٹی میں ہونے کی وجہ سے اس کے ترک پر تیار نہیں ہوتے جس طرح ایک ٹوٹی ہوئی اینٹ بھی عمارت کے اندر کھڑی رہتی ہے۔اگر زور سے موسل 2 مار کر اینٹ کو توڑ بھی دیں تب بھی وہ دوسری اینٹوں کے سہارے پر کھڑی رہے گی۔لیکن باہر نکلی ہوئی اینٹ کو تو ڑو تو اُس کے ریزے بکھر جائیں گے۔پس چونکہ آجکل کفر کے ارد گرد چاروں طرف کفر ہی کفر ہے اس لئے ارد گرد کا کفر اس کے لئے سہارے کا موجب بنا ہوا ہے۔لیکن اگر مسلمان چاروں طرف سے کفر پر حملہ شروع کر کے ایک نئی فضا پیدا کر دیں تو کفر ریت کی دیوار کی طرح یکدم زمین پر آئے گا۔لیکن افسوس ہے کہ باقی جماعتیں تبلیغ جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی میں بہت کو تاہی سے کام کر رہی ہیں اور صرف ایک ہماری جماعت ہے جو اپنی طاقت سے بڑھ کر اس فریضہ کو سر انجام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔چونکہ ہماری جماعت کی تعداد کم ہے اس لئے اس کی تبلیغ وہ گونج پیدا نہیں کرتی جو فضا کو بدلنے کے لئے ضروری ہے اور اس وجہ سے ہماری تبلیغ کا رعب اغیار کے دلوں میں ابھی تک قائم نہیں ہوا۔لیکن ہندوستان کے دس کروڑ مسلمان اگر سب کے سب اپنے فرض کو سمجھیں تو ہندوستان کی تبلیغ بہت ہی آسان ہو جاتی ہے اور غیر مسلموں کو اسلام کے حلقہ میں داخل کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ایک مسلمان کے حصہ میں