خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 390

*1946 390 خطبات محمود اس روایت کو صحیح سمجھا جائے کہ ایک لاکھ مقاتل تھا تو کل آبادی تین چار لاکھ کے درمیان بنتی ہے اور یہ صرف مسیلمہ کے قبیلہ کی تعداد ہے۔باقی تمام عرب بھی اُس وقت اسلام سے خالی تھا اور اند از آعرب کی کل آبادی اس وقت دس لاکھ کے قریب تھی۔اس لحاظ سے چند سو آدمی دس لاکھ دشمنوں کے مقابلہ میں بالکل پیچ تھے۔لیکن ایک چیز جو مسلمانوں کے عزائم کو مضبوط کرتی جاتی تھی اور کفار کے دلوں کو خوف سے کمزور کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ دشمن کے اندر سے روزانہ ایک ایک دو دو آدمی نکل کر مسلمانوں میں شامل ہو رہے تھے۔ہم بچپن میں ایک کھیل کھیلا کرتے تھے۔پتہ نہیں کہ آجکل بچے وہ کھیل کھیلتے ہیں یا نہیں۔ہم ریت کو مٹھی میں پکڑ کر بھینچا کرتے تھے اور ریت انگلیوں کے سوراخوں میں سے گرتی جاتی تھی۔گو ہم اسے روکنے کی بہت کوشش کرتے تھے مگر وہ رکتی نہ تھی۔اس ریت کا گرنا ہمیں یوں محسوس ہو تا تھا گویا ایک بہت بڑی عمارت گرتی جارہی ہے۔اسی طرح کفار بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہماری عمارت گر رہی ہے اور اب گئی کہ اب گئی۔اس بات نے ان کے اندر کمزوری پیدا کر دی تھی۔جس قوم کے افراد اپنی قوم میں سے نکل نکل کر دوسری قوم میں شامل ہوتے ہوں اس قوم میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔خواہ ایک آدمی ہی روزانہ نکلتا ہو۔اور جس قوم میں نئے نئے آدمی شامل ہوتے رہتے ہوں خواہ ایک آدمی ہی روزانہ شامل ہوتا ہو اُس قوم کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔اور اس قوم کے افراد میں بہادری کی روح چمک اٹھتی ہے۔اُس وقت سوال یہ نہیں ہوتا کہ کتنے آدمی عاد تا آکر شامل ہوئے یا کتنے آدمی عادتاً ایک قوم میں سے نکل گئے بلکہ ان کا عاد تا نکلنا اور عاد تا داخل ہونا ایسا اہم امر ہوتا ہے کہ جس قوم سے وہ نکلتے ہیں اس قوم کے اخلاق میں بگاڑ اور کمزوری شروع ہو جاتی ہے اور جس قوم میں وہ داخل ہوتے ہیں اس کے حوصلے بڑھنے شروع ہو جاتے اور اس کے اخلاق میں بہادری اور شوکت کا رنگ آنا شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کے دلوں کی یہی کیفیت تھی۔وہ آہستہ آہستہ تمام عرب پر اور پھر باقی تمام دنیا پر چھا گئے اور دنیا کے کونے کونے میں انہوں نے اسلام کے جھنڈے گاڑ دیئے۔چھوٹے ہوتے ہم پڑھا کرتے تھے کہ یور بین اندازہ کے لحاظ سے مسلمان سب روئے زمین پر بیس کروڑ ہیں۔لیکن مسلمان چالیس کروڑ کا اندازہ بتایا کرتے تھے۔بچپن میں میں یورپین اندازہ کو زیادہ صحیح سمجھا کرتا تھا اور سمجھتا تھا