خطبات محمود (جلد 27) — Page 29
*1946 29 خطبات محمود بر ہما کا معبد ہے اور کہیں بھی نہیں) چنانچہ اس نے برہما کی پرستش شروع کر دی۔کچھ عرصہ کے بعد اس کے گھر لڑکا پیدا ہوا۔جب لڑکے نے ہوش سنبھالا تو باپ کے دل میں خیال آیا کہ بر ہما نے جو کام کرنا تھا کر لیا اب مارنا تو شیو جی نے ہے۔اس لئے اب بر ہما کو چھوڑ کر شیو جی کی رستش شروع کر دینی چاہئے۔چنانچہ اسی خیال سے اس نے برہما کو چھوڑ کر شوجی کی پرستش شروع کر دی۔جب لڑکا بڑا ہوا اور اس نے یہ باتیں سنیں کہ میری پیدائش اس رنگ میں ہوئی تھی تو اس نے برہما کی پرستش شروع کر دی۔باپ نے اس کو بہت منع کیا لیکن اس نے باپ کی بات کو نہ مانا اور کہا کہ جس نے احسان کیا ہے میں تو اس کی پرستش کو نہیں چھوڑ سکتا۔آخر باپ بیٹے میں لڑائی شروع ہوئی اور اس نے اتنا طول پکڑا کہ باپ کے دل میں ضد اور غصہ پیدا ہو گیا اور اس نے بیٹے کے خلاف شیو جی سے دعا مانگی کہ یہ میر ا باغی ہو گیا ہے اور باوجو د منع کرنے کے آپ کی پرستش نہیں کرتابلکہ بر ہما کی پرستش کرتا ہے۔آپ اس کی جان نکال لیں۔چنانچہ شوجی نے اس کی جان نکال لی۔جب برہما کو معلوم ہوا کہ وہ جو میری پرستش کرتا تھا اس کو میری پرستش کرنے کی وجہ سے مارا گیا ہے تو اس نے کہا کہ میں اسے دوبارہ زندہ کروں گا۔چنانچہ اس نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔شوجی نے غصے میں آکر اسے پھر مار دیا۔بر ہمانے اسے پھر زندہ کیا۔شو جی نے اسے پھر مار دیا اور برہما نے اسے پھر زندہ کر دیا اور غالباً یہ سلسلہ اس وقت سے لے کر اب تک جاری ہے اور آسمان پر برہما جی اسے زندہ کرتے ہیں اور شو جی اسے مارتے ہیں۔یہ ہے تو ایک کہانی مگر اس میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں مارا جائے تو خدا اس کو دوبارہ دنیا میں زندہ کر دیا کرتا ہے۔یہ ایک بہت ہی قیمتی حقیقت ہے کہ خدا کے پرستار مرا نہیں کرتے۔وہ مرتے ہیں تو پھر زندہ کر دیئے جاتے ہیں۔کئی لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے لئے جانیں دیں اور وہ بے نسل تھے ، جو ان تھے ، ابھی ان کی شادیاں بھی نہیں ہوئی تھیں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو گئے مگر ان کا نام آج تک زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک حضرت عثمان بن مظعون بھی تھے جو رسول کریم صلی الیم کے مقرب صحابی تھے۔وہ ابھی نوجوان تھے پندرہ سولہ سال کی عمر تھی کہ اسلام لائے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے راستہ میں اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ کسی نے جوش میں آکر آپ کی