خطبات محمود (جلد 27) — Page 368
*1946 368 خطبات محمود اور ان پر سختی نہ کرنا کیونکہ تمہاری دادی ہاجرہ مصر کی تھیں 2 جن لوگوں نے اپنے سے پہلے دو ہزار یا تین ہزار سال کی رشتہ داری کا خیال رکھا کہ ہماری ایک دادی مصر سے آئی تھی۔وہ اس تازہ احسان کو کیونکر بھول سکتے تھے۔غرض مسلمان کسی وقت حبشہ کے سوا ساری دنیا کے حاکم تھے۔دنیا کے کچھ حصے براہ راست ان کے ماتحت تھے اور بعض حصے بالواسطہ ماتحت تھے اور ان میں مسلمانوں کا اثر و نفوذ پورے طور پر قائم تھا۔کجاوہ حالت اور کجا یہ حالت کہ آج مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں جہاں وہ آزادی کا سانس لے سکیں۔یہ بات جاہلوں اور بے وقوفوں کو تو تسلی دے سکتی ہے کہ لڑکی بڑی زبر دست اور آزاد حکومت ہے اور افغانستان اور ایران بڑی زبر دست آزاد طاقتیں ہیں لیکن عقلمند لوگ اس کی حقیقت سے خوب آگاہ ہیں کہ یہ حکومتیں کس قدر طاقتور ہیں اور کتنی آزادی ان کو حاصل ہے۔ہم بچپن میں عورتوں سے قصے کہانیاں سنا کرتے تھے کہ ٹرکی کا بادشاہ بہت طاقتور ہے اور جب وہ نکلتا ہے تو دو سو فرنگی بادشاہ اس کے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہوتا ہے لیکن بڑے ہوئے تو یہ نظر آیا کہ ہر فرنگی بادشاہ کی باگ پکڑنے پر ترک بادشاہ مجبور تھا لیکن ان حالات کے باوجود مسلمانوں کے دلوں میں درد نہیں اٹھتا۔اسلام اس وقت سخت مصیبت میں ہے۔اس کے دشمن اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں اور مسلمان ہیں کہ غفلت کی گہری نیند سور ہے ہیں۔کسی کے دل میں اسلام کے لئے غیرت جوش نہیں مارتی۔اسلام کی تعلیم سے ہنسی اور تمسخر کیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے دلوں میں کوئی ٹمیں نہیں اُٹھتی اور ان کی غیرت ان حملوں کے جواب دینے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ابن تیمیہ کے زمانہ میں گو مسلمان تنزل کی طرف جارہے تھے لیکن ان میں غیرت باقی تھی اور وہ اسلام کے خلاف کوئی بات سننا گوارا نہ کرتے تھے۔اس زمانہ کا ذکر ہے کہ ایک مولوی صاحب کو بطور وفد عیسائی بادشاہ کے پاس بھجوایا گیا۔عیسائی پادریوں نے سوچا کہ مولوی صاحب سے کوئی ایسا مذاق کیا جائے جس سے اسلام کی تحقیر ہو۔انہوں نے بادشاہ کو حضرت عائشہ کے قافلہ سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ سنا کر کہا کہ آپ مولوی صاحب سے پوچھیں کہ وہ کیا واقعہ ہوا تھا؟ مولوی صاحب اس کا جواب نہیں دے سکیں گے۔چنانچہ جب مولوی صاحب