خطبات محمود (جلد 27) — Page 363
*1946 363 خطبات محمود انعام پہلے انعام سے بڑا ہوتا ہے۔فرض کرو ایک شخص کے پاس دس روپے کا نوٹ ہے لیکن اگر اس میں ایک چوٹی بھی شامل کر دی جائے تو وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتا ہے۔گوچوٹی دس روپے سے چھوٹی ہے لیکن اس نے بھی دس روپے کے ساتھ مل کر اس میں زیادتی پیدا کر دی۔پس کسی نشان اور کسی انعام کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔ہماری جماعت کے لئے یہ زمانہ بہت نزاکت کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات کی بارش ہو رہی ہے۔اگر جماعت ان کی کماحقہ قدر نہ کرے گی تو یہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ ہی اللہ تعالیٰ کے انعامات کی اتنی قدر کرتے تھے کہ جب بارش کے قطرات گرتے تو بعض دفعہ آپ اپنی زبان باہر نکالتے اور اُس پر قطرات گراتے اور آپ فرماتے۔دیکھو میرے رب کی تازہ نعمت۔6 جب آپ پانی کے ایک قطرے کی اتنی قدر کرتے تھے تو باقی نعماء کی قدر آپ کتنی کرتے ہوں گے۔لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چشمہ کا چشمہ بھی پی جائیں تو بھی ان کے منہ سے الْحَمْدُ لِلہ نہیں نکلتا۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی تحقیر کر کے اپنا انجام خود خراب کرتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر روحانیت پیدا کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے نشانات کی قدر کرنی چاہئے۔آپ اللہ تعالیٰ کے نشانات کی جتنی قدر کریں گے اتنا ہی آپ کا ایمان بڑھے گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ نشانات کی قدر کریں اور آپ کا ایمان نہ بڑھے۔اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ میں ایمان ہو اور آپ نشانات کی قدر نہ کریں کیونکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جتن کسی میں ایمان ہو گا اتنا ہی وہ نشانات کی قدر کرے گا۔“ (الفضل 9 اگست 1946ء) 1 ترمذی ابواب الجنائز باب ما جاء في تَرْكِ الصَّلَوَةِ عَلَى الطَّفْلِ حَتَّى يَسْتَهِلْ 2: کنز العمال جلد 12 صفحہ 649،648۔مطبوعہ حلب 1974ء، طبقات ابن سعد جزء ثالث صفحہ 301 مطبوعہ بیروت 1985ء :3: ابو داؤد كِتَابُ الْاَدَب باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيْحُ 4: یوناہ باب 1 تا 4 5: البقرة: 26 6 ابوداؤد كِتَاب الْآدَبِ بَابُ فِي الْمَطَر