خطبات محمود (جلد 27) — Page 318
*1946 318 خطبات محمود جدائی اختیار کر لی تھی اور وہ اپنے ماں باپ سے کونسانیک نمونہ حاصل کریں گے اور ایسی اولاد کیسے ترقی حاصل کر سکتی ہے۔پس یہ چیزیں اخلاق کو سنوارنے والی نہیں بلکہ اخلاق کو بگاڑنے والی ہیں۔جماعت کو ان کی اہمیت سمجھنی چاہئے کیونکہ میرے نزدیک یہ اہم امور سے بھی بالا چیز ہے۔جب بھی قاضی کے پاس کوئی ایسا معاملہ پیش ہو اس کا دل کانپ جانا چاہئے کہ کہیں میں کوئی ایسا فیصلہ نہ کر دوں جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو۔اور اسے معاملہ کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے فیصلہ کرنا چاہئے اور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جب کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے تو نہ مرد کے ماں باپ اور نہ ہی عورت کے ماں باپ اس میں دخل دینے کی کوشش کریں اور وہ قاضی پر پورا اعتمادر کھیں۔اگر انہیں فیصلہ میں کوئی سقم معلوم ہو تو وہ ہمیں لکھ سکتے ہیں۔پھر ہم دیکھیں گے کہ اس فیصلہ میں واقع میں کوئی سقم موجود ہے یا نہیں۔اس طرح آہستہ آہستہ قاضیوں کی بھی عقل تیز ہو جائے گی۔شادی کے بعد ماں باپ کے حقوق ختم نہیں ہو جاتے بلکہ شادی کے بعد بھی ماں باپ کے حقوق اولاد پر ہوتے ہیں۔اگر ایک عورت ایسی ہے کہ اس کے پاس سوائے ایک لڑکی کے اور کوئی بچہ نہیں جو اس کی خدمت کر سکے۔جب وہ اس لڑکی کی شادی کر دیتی ہے تو اب اس کے داماد کا فرض ہے کہ یا تو اس لڑکی کو اپنی ماں کی خدمت کا موقع دے اور اسے اس کے پاس رہنے دے۔یا اگر وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی بوڑھی والدہ کا بھی بوجھ اٹھائے۔کیونکہ اصل میں یہ بوجھ اس کی بیوی کے ذمہ تھا۔لیکن جب وہ یہ چاہتا ہے کہ میری بیوی میرے ساتھ رہے تو اسے اپنی ساس کا بوجھ بھی اٹھانا چاہئے۔اسی طرح اگر لڑکے کے والدین بوڑھے ہیں اور انہیں خدمت کی ضرورت ہے تو لڑکی کا فرض ہے کہ ان کی خدمت کرے اور ان سے نرمی کے ساتھ پیش آئے۔یہ ذمہ داریاں میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہیں۔بعض لوگ ایسے موقع پر اپنے اخراجات کی تنگی کا عذر پیش کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ عذر اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔میرا یہ تجربہ ہے کہ غریبوں کے گھروں میں اکثر بچے زیادہ ہوتے ہیں۔آخر وہ بھی اپنا گزارہ کرتے ہیں۔میرے پاس غرباء کی جو درخواستیں غلے کے لئے آئیں ان میں سے اکثر آدمی ایسے تھے جن کے چھ سات سے آٹھ نو بچے تھے۔