خطبات محمود (جلد 27) — Page 303
*1946 303 خطبات محمود نے مالک کی لاش نہ ملی۔وہ لوگ رسول کریم صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اور مسلمانوں کی لاشیں تو مل گئی ہیں مگر مالک کی لاش ہمیں نہیں ملی۔رسول کریم پھر یہ ہدایت دی کہ مالک کی لاش تلاش کی جائے۔چنانچہ انہوں نے پھر تلاش شروع کر دی اور آخر ایک لاش کے کئی ٹکڑے اُنہیں الگ الگ مقامات پر ملے۔جب اُن ٹکڑوں کو جوڑا گیا تو ایک لاش بن گئی۔مگر اس لاش کو پہچاننے والا کوئی نہیں تھا۔کیونکہ نہ آنکھیں نظر آتی تھیں،نہ ناک نظر آتا تھا، نہ کان نظر آتے تھے، نہ چہرے کا گوشت نظر آتا تھا۔ہر چیز ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مسخ ہو چکی تھی۔آخر ایک انگلی سے مالک کی بہن نے پہچانا کہ یہ انگلی میرے بھائی کی ہے۔4 یہ وہ لوگ تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ - 5 مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں جنہوں نے جو کچھ کہا تھا اسے پورا کر کے دکھا دیا ہے اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے جو کچھ کہا تھا اسے پورا کر کے دکھانے کا موقع انہیں نہیں ملا۔وہ ابھی انتظار کر رہے ہیں جب موقع آئے گاوہ بھی اپنی ہر چیز خدا اور اس کے رسول کے لئے قربان کر دیں گے۔مالک نے کہا تھا تم نے کیا کام کیا۔میں ہو تا تو تم کو دکھاتا کہ اسلام کے لئے کس طرح لڑنا چاہئے۔چنانچہ مالک نے جو کچھ کہا تھا اسے پورا کر کے دکھا دیا۔وہ زمین کے ذرات جن پر مالک کے خون کے قطرات گرے، وہ زمین کے ذرات جن پر مالک کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہر طرف پھیل گیا، وہ زمین کے ذرات جن پر مالک کی قبر بنی اور وہ خاک جو مالک کی نعش کے اوپر ڈالی گئی اور جس خاک میں مالک کی نعش مل کر خاک ہو گئی۔اس خاک کا ایک ایک ذرہ شہادت دے رہا ہے کہ خدا کے عاشقوں اور اس کے دین کے عاشقوں کو کسی قسم کے خطرہ کی پروا نہیں ہو سکتی۔وہ اپنی جان کو ایک بے حقیقت چیز کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور اسلام کے لئے کسی قسم کی کوتاہی سے کام نہیں لیتے۔آج مالک کا ذرہ ذرہ ان لوگوں کو مجرم بنا رہا ہے جو قربانیوں میں حصہ لینے سے ہچکچاتے ہیں اور قیامت کے دن خدا ان کو ایسے لوگوں کے خلاف شاہد بنا کر کھڑا کرے گا اور ان سے کہے گا کہ دیکھو! تم نے بھی ویسا ہی اقرار خدا اور اس کے رسول سے کیا تھا جیسے مالک نے کیا تھا۔مگر تم اپنے اقرار کو وقت پر پورا نہ کر سکے اور مالک نے اپنے اقرار کو پورا کر دیا۔اللہ تعالیٰ