خطبات محمود (جلد 27) — Page 293
*1946 293 خطبات محمود جب دن بھر کے کام سے فارغ ہو کر وہ شام کے قریب اپنے خیمہ میں آئے اور انہوں نے ڈاک دیکھی تو میر اخطبہ ان کی نظر سے گزرا۔انہوں نے خود مجھے لکھا کہ رات کے وقت مجھے آپ کا خطبہ پہنچا اور جب میں نے اسے پڑھا تو مجھے نہایت ہی ندامت اور شرمندگی محسوس ہوئی کہ ساری عمر تو میں نے آرام اور آسائش میں گزار دی ہے اب اسلام کے لئے قربانی کرنے کا وقت آیا ہے تو میرے جیسا آرام پسند انسان کدھر جائے گا۔وہ کہتے ہیں اس خیال کے آنے پر مجھ پر کرب کی حالت طاری ہو گئی اور میں بے تاب ہو گیا کہ کہیں اس امتحان میں میں بے ایمان ثابت نہ ہو جاؤں۔اس وقت میں نے اپنے نفس سے کہا کہ ابھی امام کی طرف سے کوئی آواز تو نہیں آئی لیکن مجھے اس کے لئے تیاری تو شروع کر دینی چاہئے۔پھر میں نے سوچا کہ میں کیا کام کر سکتا ہوں اور کونسا ذریعہ ہے جس سے میں اپنے نفس کو مارنے کا کام لے سکتا اور تکلیف برداشت کر سکتا ہوں۔میں نے کہا کہ اگر میں لڑائی میں شامل نہیں ہو سکتا تو کم از کم پہرہ تو دے سکتا ہوں مجھے اسی کی مشق کرنی چاہئے۔چنانچہ میں نے بندوق اٹھائی اور اپنے خیمہ کے ارد گرد ساری رات پہرہ دیتا رہا۔اس وقت جتنے افسر اور سپاہی وہاں موجو دتھے انہوں نے جب دیکھا کہ میں اپنے خیمہ کے ارد گرد پہرہ دے رہا ہوں تو انہوں نے سمجھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں۔چنانچہ ساری ریاست میں یہ بات پھیل گئی کہ فلاں افسر پاگل ہو گیا ہے۔تو دیکھو یہ ایک جس تھی جو ان میں کام کر رہی تھی۔وہ شکار پر جانے کے لئے بھی تیاری کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ شکار ہی کیا ہو ا جس کے لئے انسان کوئی تیاری نہ کرے اور شام کو تھ کاماندہ واپس آجائے۔یہ عادت اس وقت بھی ان کے کام آگئی جب انہوں نے امام کی آواز سنی کہ جماعت کے لئے قربانی کا وقت قریب آگیا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ کوئی کام بغیر تیاری کے نہیں ہو سکتا۔مجھے ابھی سے اس کے لئے تیاری شروع کر دینی چاہئے۔چنانچہ وہ شخص جس کے لئے دوسرے لوگ خود پہرہ دے رہے تھے ، جس کے ارد گرد بیبیوں پولیس کے افسر موجود تھے آپ بندوق پکڑ کر خیمہ کے ارد گرد ساری رات پہرہ دیتا رہا۔واقع یہ ہے کہ کوئی کام تیاری کے بغیر ہو نہیں سکتا۔میں نے جماعت کو متواتر اور بار بار توجہ دلائی ہے کہ آخر ہمارے کام کس طرح ہوں گے۔محض ایک شخص کی آواز سن کر واہ وا کہہ دینا یا کسی کا نام لے کر کہہ دینا کہ فلاں شخص بڑا