خطبات محمود (جلد 27) — Page 288
خطبات محمود 288 *1946 دنیا کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ میدانِ جنگ میں کرنیل مارا گیا تو میجر نے کمان سنبھال لی۔میجر مارا گیا تو کیپٹن نے کمان سنبھال لی، کیپٹن مارا گیا تو لیفٹینٹ نے کمان سنبھال لی۔لیفٹینٹ مارا گیا تو صو بیدار نے کمان سنبھال لی، صوبیدار مارا گیا تو جمعدار نے کمان سنبھال لی حالانکہ جمعداروں کی فوجی لحاظ سے کوئی خاص تربیت نہیں ہوتی مگر بیسیوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ جمعداروں نے فوج کی کمان سنبھال لی اور وہ بڑی حفاظت سے اس کو واپس لے آئے۔اسی طرح مومنوں میں سے جو لوگ بڑے سمجھے جاتے ہیں اور مرکزی کاموں پر مقرر ہیں وہ اگر اپنے کاموں میں کوتاہی کریں تو پھر ہر ادنیٰ سے ادنی مومن کا فرض ہے کہ وہ اس بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے اور خدا تعالیٰ کے دین کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچنے دے۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر حجت تمام کرنے کے لئے ہی محمد رسول اللہ صلی للی ملک کو ان پڑھ رکھا ہے۔ورنہ کیا خدا تعالیٰ میں طاقت نہیں تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی علی کریم کو ایسی اعلیٰ درجہ کی دنیوی تعلیم دلاتا کہ کوئی شخص ظاہری تعلیم میں بھی آپ کا مقابلہ نہ کر سکتا؟ یا کیا خد اتعالیٰ میں طاقت نہیں تھی کہ وہ آپ کو بڑا مالدار بنا دیتا؟ خدا تعالیٰ یہ سب کچھ کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔یہ بتانے کے لئے کہ کبھی اسلام کے کاموں میں یہ عذر نہ کرنا کہ ہم پڑھے لکھے نہیں۔تمہارا ر سول جو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا اور جو اولین و آخرین کا سردار تھاوہ بھی ان پڑھ تھا۔جب اس نے ان پڑھ ہو کر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا تو تم ان پڑھ ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیوں نہیں کر سکتے۔پس دینی کاموں میں کبھی یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ مجھ سے بالا آدمی کیا کرتا ہے۔مومن ہر ایک بالا ہوتا ہے اور مساوات کے معنے بھی یہی ہیں۔چنانچہ نمازوں میں یہی ہوتا ہے کہ بادشاہ اور گدا، امیر اور غریب سب ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی سبق سکھایا ہے کہ جب ضرورت پیش آجائے اس وقت تمہیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ فلاں بڑا آدمی کیا کام کر رہا ہے۔ہم نے بڑے اور چھوٹے کا امتیاز اپنی مسجد میں نہیں رکھا۔اس لئے اگر ایک ایسا شخص جو تمہیں بظاہر بڑا نظر آتا ہے دین کے کاموں میں کو تاہی کرتا ہے تو تم جو بظاہر چھوٹے سمجھے جاتے ہو تمہارا فرض ہے کہ اس بوجھ کو اٹھالو اور اسلام کے جھنڈے کو