خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 287

*1946 287 خطبات محمود طریق دنیا میں ہر جگہ جاری ہے اور ہر محکمہ میں یہی ہوتا ہے کہ اگر بیماری یا کسی ہنگامی ضرورت کی وجہ سے ایک دو کار کن چند دنوں کے لئے چلے جائیں تو باقی کارکن ان کا بوجھ اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔جب ہر محکمہ میں ایسا ہوتا ہے تو کیا مدرس ایسا نہیں کر سکتے ؟ اگر ان میں نیکی اور تقویٰ ہو اگر ملتی اور مذہبی کاموں کو بخوشی سر انجام دینے کی روح ان میں پائی جاتی ہو تو یہ ہر گز کوئی ایسی بات نہیں جس پر ان کے دلوں میں اعتراض پید اہو۔وہ اپنے آدمیوں میں سے ایک دو کو فارغ کر سکتے ہیں اور اس کی جگہ خود کام کر سکتے ہیں۔جس طرح ہسپتال میں اگر ایک ڈاکٹر آٹھ دس دن کی چھٹی پر چلا جاتا ہے تو کمپیونڈر اس کا کام سنبھال لیتے ہیں۔کمپونڈر چلا جائے تو ڈاکٹر اس کی جگہ کام کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔جس طرح ہل چلانے والا بیمار ہو جاتا ہے تو دوسرا شخص جو چارہ لانے کا کام کیا کرتا تھا وہی ہل بھی چلاتا ہے اور چارہ بھی لاتا ہے اُسی طرح مدرسوں میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر چند مدرس ہنگامی ضروریات کے لئے فارغ کرا لئے جائیں تو باقی مدرس ان کا بوجھ اٹھا لیں اور کام کو نقصان نہ پہنچنے دیں۔آخر مدرس سارا وقت کام نہیں کرتے زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے کام کرتے ہیں اور باقی وقت فارغ رہتے ہیں۔اگر چند دنوں کے لئے انہیں دو چار مدرسوں کی جگہ چار گھنٹہ کی بجائے چھ گھنٹہ بھی کام کرنا پڑے تو یہ کوئی مشکل بات نہیں۔جو شخص تین گھنٹے کام کرتا ہے وہ چار گھنٹے بھی کام کر سکتا ہے اور جو چار گھنٹے کام کرتا ہے وہ پانچ گھنٹے بھی کام کر سکتا ہے اور کسی قسم کا حرج واقع نہیں ہو سکتا۔بہر حال یہ ساری باتیں ہو سکتی ہیں مگر نیت بخیر ہونی چاہئے۔جب نیت درست ہو تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو تا کہ فلاں ناظر نے کیا کیا یا فلاں نائب ناظر یا افسر صیغہ یا ہیڈ ماسٹر نے کیا کیا۔انسان سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے میں ذمہ دار ہوں۔مجھے اس امر کی کیا پروا ہے کہ زید نے کیا کیا یا بکر کیا کر رہا ہے۔لیکن جب نیت خراب ہو جائے تو ایمان خراب ہو جاتا ہے اور پھر ایسے شخص کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔پیچھے ہٹتے ہٹتے وہ جہنم میں جا پڑتا ہے۔اس کے مقابلہ میں جب ایمان مضبوط ہو تو ہر شخص اپنی ذمہ داری کو آپ محسوس کرتا ہے۔وہ جب دیکھتا ہے کہ میر ادوسر اسا تھی غفلت اور کو تاہی سے کام لے رہا ہے تو بجائے طعنہ زنی کرنے اور ہنسی مذاق سے کام لینے کے وہ آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے یہ خدا کا کام ہے۔میں نے اس کام کو بگڑنے نہیں دینا۔تب وہ خود ذمہ دار بن کر کام کو کہیں کا کہیں پہنچادیتا ہے۔