خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 283

*1946 283 خطبات محمود میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں ان لسٹوں کی تیاری میں پوری محنت اور تندہی سے کام لینا چاہئے۔چونکہ الیکشن کی لسٹیں باہر بھی تیار ہو رہی ہیں۔اس لئے قادیان سے باہر کی جماعتوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے علاقوں میں کو نسلوں کے انتخاب کے لئے جو نئی لسٹیں بن رہی ہیں وہ انہیں احتیاط اور توجہ سے بنوانی چاہئیں اور اس بارہ میں وقت کی جس قدر قربانی کی ضرورت ہو وہ انہیں قربان کرنا چاہئے۔مجھے تعجب ہے کہ ابھی گزشتہ دنوں صدر انجمن احمدیہ کے ایک ادارہ سے انتخابات کے کام کے لئے ایک آدمی مانگا گیا تو اس نے آدمی دینے سے انکار کر دیا۔میری ایک بیوی اس سال امتحان دے رہی ہیں۔15 جون کو ان کا امتحان ہونے والا ہے۔میں نے انہیں کہا کہ کام کرنا صرف تمہارے سپرد نہیں اور لوگوں کا بھی فرض ہے کہ کام کریں۔تم اس وقت چھٹی لے لو کیونکہ تمہارا امتحان قریب ہے۔ان کی جگہ اتفاقاً ایک استانی مقرر کی گئیں۔اس پر محکمہ کو لکھا گیا کہ فلاں استانی کو کچھ دنوں کے لئے فارغ کر دیا جائے کیونکہ ان سے سلسلہ کا ایک اور ضروری کام لینا ہے۔محکمہ نے جواب دیا کہ ہم اس استانی کو فارغ نہیں کر سکتے۔میرے نزدیک اس قسم کی ذہنیت رکھنے والے افسر خود اس قابل ہیں کہ ان کو فارغ کر دیا جائے۔وہ جانتے ہی نہیں کہ قومی کام کیا ہوتا ہے اور وہ کتنی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔وہ اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہم افسر ہیں اور ہماری مرضی ہے کہ ہم لوگوں سے جو چاہیں کام لیں۔چاہے وہ مرضی ایسی ہی ہو جیسے آپ زمزم میں پیشاب کرنے والے نالائق کی مرضی تھی۔اس قسم کے لوگ اپنی گندی ذہنیتوں سے دوسروں کو بگاڑنے کا موجب ہوتے ہیں اور بالا افسران اور صدر انجمن احمدیہ کا فرض ہے کہ ان کی اصلاح کریں۔وہ ایسے پھوڑے ہیں جو چیر کر درست کرنے کے قابل ہیں۔قومی کاموں میں ہمیشہ بڑے کام کے مقابلہ میں چھوٹے کام کو قربان کیا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا اصل ہے جو ترقی کرنے والی قومیں ہمیشہ اپنے مد نظر رکھتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں سارے کام لوگ کرتے چلے جاتے تھے اور کبھی وہ یہ سوال نہیں اٹھاتے تھے کہ یہ کام ہم کیوں کریں، ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔وہ جانتے تھے کہ ہمیں جو کچھ کہا جاتا ہے سلسلہ کے لئے کہا جاتا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کام کو سر انجام دیں۔آخر غور کرنا چاہئے کہ کیا اس زمانہ میں ہیڈ ماسٹروں کو