خطبات محمود (جلد 27) — Page 276
*1946 276 خطبات محمود لیتے ہیں لیکن تاجر بہت کم حصہ لیتے ہیں اِلَّا مَا شَاءَ الله - بعض تاجر بے شک بہت بڑی قربانی کر رہے ہیں مگر بالعموم سو میں سے پانچ تاجر ایسے ہوتے ہیں جو قربانی کرتے ہیں اور پچانوے تاجر ایسے ہوتے ہیں جو چندہ تو دیتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پلہ ہلکا رہے اور ان کا پلہ بھاری رہے۔اسی طرح زمینداروں میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو قربانی کرتا ہے اور ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے فرائض سے غافل ہے۔مگر آب وہ دن آگیا ہے کہ یا تو ہماری جماعت کو پوری طرح قربانی کرنے پڑے گی اور یا اس میدان سے اپنے منہ پر کالک لگا کر بھاگنا پڑے گا۔آخر جو کام روپیہ سے ہو سکتے ہیں وہ روپیہ کے بغیر کس طرح ہو سکتے ہیں۔لوگوں کے لئے بہر حال ضروری ہو گا کہ وہ مالی قربانی کریں اور سلسلہ کے کاموں میں کوئی روک واقع نہ ہونے دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر روپیہ نہ ہوا تو یہ نہیں ہو گا کہ ہمارے مبلغ دین کی خدمت سے منہ موڑ لیں۔لیکن اس صورت میں وہ ان لوگوں کی ذاتی قربانی ہو گی، جماعت کی نہیں۔اور برکت کی بات یہ ہوتی ہے کہ قربانی جماعت کی طرف منسوب ہو۔امریکہ کا مبلغ امریکہ میں کام کر رہا ہو۔وہ اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے دور ہو۔ہر قسم کی تکالیف اور مصائب برداشت کر رہا ہو لیکن ہر شخص اسے دیکھ کر یہ نہ کہے کہ وہ تبلیغ کر رہا ہے بلکہ یہ کہے کہ جماعت تبلیغ کر رہی ہے کیونکہ جماعت اس کی ہر قربانی میں شامل ہو تو یہ جماعتی تبلیغ ہو گی۔مغربی افریقہ میں ہمارے مبلغین کو دیکھنے والا صرف ان کو نہ دیکھے بلکہ جب وہ جماعت کی تنظیم اور جماعتی قربانی اور جماعتی امداد پر نظر ڈالے اور جب اسے نظر آئے کہ کس طرح ان مبلغین کو جماعت کی طرف سے ہر قسم کا لٹریچر اور نشر و اشاعت کا سامان پہنچ رہا ہے، اسی طرح ہر قسم کی امداد جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں فوراً جماعت کی طرف سے پہنچ جاتی ہے تو وہ یہ نہ کہے گا کہ دس یا پندرہ افراد مغربی افریقہ میں تبلیغ کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ جماعت احمدیہ مغربی افریقہ میں تبلیغ کر رہی ہے۔اگر جماعت کے تمام افراد کام میں لگ جائیں اور ہر شخص کی نگاہ اسی طرف اٹھے۔جس طرف مبلغ کی نگاہ ہو اور اس کا مال بھی اور اس کی جان بھی اور اس کا وقت بھی اور اس کی عقل بھی اور اس کا فہم بھی سب کا سب ان لوگوں کے لئے وقف ہو جو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس کے کلمہ کے لئے مختلف ممالک میں مختلف کوششوں میں مصروف ہوں