خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 275

*1946 275 خطبات محمود کہ بعض کمزور بھی ہیں اور ہمیں اس دوران میں یہ تجربہ بھی ہوا ہے کہ بعض ایسے لوگ بھی ہمارے پاس امداد کے لئے آجاتے ہیں جو در حقیقت امداد کے مستحق نہیں ہوتے۔لیکن بالعموم فاقہ کرنے والے غرباء بھی چندہ دیتے اور اپنی بساط کے مطابق دل کھول کر دیتے ہیں۔دنیا میں تو یہ جھگڑے ہوتے ہیں کہ میاں بیوی کی لڑائی ہوتی ہے تو بیوی کہتی ہے مجھے زیور بنوا دو اور میاں کہتا ہے میں کہاں سے زیور بنوا دوں میرے پاس تو روپیہ ہی نہیں۔لیکن میں نے اپنی جماعت میں سینکڑوں جھگڑے اس قسم کے دیکھے ہیں کہ بیوی کہتی میں اپنا زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتی ہوں مگر میرا خاوند کہتا ہے کہ نہ دو کسی اور وقت کام آجائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایسا اخلاص بخشا ہے کہ اور عور تیں تو زیور کے پیچھے پڑتی ہیں اور ہماری عور تیں زیور لے کر ہمارے پیچھے پھرتی ہیں۔میں نے تحریک وقف کی تو ایک عورت اپنا زیور میرے پاس لے آئی۔میں نے کہا میں نے سر دست تحریک کی ہے کچھ مانگا نہیں۔اس نے کہا یہ درست ہے کہ آپ نے مانگا نہیں لیکن اگر کل ہی مجھے کوئی ضرورت پیش آگئی اور میں یہ زیور خرچ کر بیٹھی تو پھر میں کیا کروں گی۔میں نہیں چاہتی کہ میں اس نیکی میں حصہ لینے سے محروم رہوں۔اگر آپ اس وقت لینا نہیں چاہتے تو بہر حال یہ زیور اپنے پاس امانت کے طور پر رکھ لیں اور جب بھی دین کو ضرورت ہو خرچ کر لیا جائے۔میں نے بہتیرا اصرار کیا کہ اس وقت میں نے کچھ مانگا نہیں مگر وہ یہی کہتی چلی گئی کہ میں نے تو یہ زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے۔اب میں اسے واپس نہیں لے سکتی۔یہ نظارے غرباء میں بھی نظر آتے ہیں اور امراء میں بھی۔لیکن امراء میں کم اور غرباء میں زیادہ۔یہی ایثار اور یہی حوصلہ ہے جو ہمیں امید دلاتا ہے کہ ہم کفر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے فتح پائیں گے کیونکہ جب کسی قوم میں مخلص زیادہ ہو جاتے ہیں اور کمزور کم تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔لیکن کچھ لوگوں کے مخلص ہونے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ باقی لوگ اپنے فرائض کو بھول چکے ہیں۔پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو شہریوں کو بھی اور گاؤں کے رہنے والوں کو بھی، تاجروں کو بھی اور ملازم پیشہ لوگوں کو بھی، اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اپنی قربانیوں کا جائزہ لینا چاہئے اور سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اپنے چندوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ ملازم پیشہ لوگ ہر قسم کی تحریکات میں بہت زیادہ حصہ