خطبات محمود (جلد 27) — Page 266
خطبات محمود 266 *1946 امریکہ میں اس سے بھی زیادہ تنخواہیں ہیں۔کہا جاسکتا ہے کہ بعض مزدور اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جن کی تنخواہیں اپنے فن میں مہارت رکھنے کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔یہ ٹھیک ہے اور ہر ملک میں ایسا ہوتا ہے مگر پھر بھی امریکہ میں ڈیڑھ سو ڈالر سے لے کر تین سو ڈالر تک عام مزدور لیتا ہے اور جو اپنے فن میں خاص طور پر ماہر ہوتے ہیں یا اعلیٰ درجہ کے مستری ہوتے ہیں وہ تو بہت زیادہ تنخواہیں لیتے ہیں۔گویا امریکہ میں ایک عام مز دور پانچ سو سے لے کر ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ لیتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں ڈپٹی کی تنخواہ چھ سو روپیہ ہوتی ہے اور ڈپٹی ہونا یوں سمجھا جاتا ہے کہ گویا وہ عرش پر پہنچ گیا ہے۔ایک غریب آدمی اگر ڈپٹی سے بات کرنے لگے تو وہ اپنا منہ دوسری طرف پھیر لے گا اور کہے گا یہ بیوقوف اور جاہل اتنا بھی نہیں جانتا کہ میں ڈپٹی ہوں۔غرض ہمارے ملک میں ڈپٹی ہو جانا ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے حالانکہ ایک ڈپٹی کی امریکہ کے مزدور سے آدھی تنخواہ ہوتی ہے۔پس ان ملکوں میں گزارہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔مگر ہم ان ممالک میں بھی اپنے مبلغین کو اتنا تنگ گزارہ دیتے ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں۔پھر جنوبی امریکہ میں شمالی امریکہ سے بھی زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔مگر ہم جنوبی امریکہ کے مبلغ کو بھی بہت تھوڑا گزارہ بھجواتے ہیں۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ ہم روپیہ خود جمع کرتے جاتے ہیں اور انہیں گزارہ کے لئے ایک معمولی سی رقم بھجوا دیتے ہیں۔ہمارے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ ہم ان کو بھیج دیتے ہیں۔مگر پھر بھی وہ ان کے اخراجات کے مقابلہ میں بہت کم ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ جنوبی امریکہ میں شمالی افریقہ سے بھی زیادہ اخراجات ہیں۔مگر اس کے باوجود ہم وہاں کے مبلغ کو چار سال تک صرف ساٹھ روپیہ مہینہ بجھواتے رہے ہیں۔اس سے اندازہ کر لو کہ وہ کیسی تنگی سے گزارہ کرتے ہیں۔جس ملک کے مزدور کو پانچ سو سے ہزار روپیہ تک تنخواہ ملتی ہو اس ملک میں ساٹھ روپیہ مہینہ لے کر کوئی شخص کیسے گزارہ کر سکتا ہے۔اسی طرح اور کئی ایسے ممالک ہیں جن میں ہم اپنے مبلغین کو پندرہ پندرہ، ہیں ہیں روپیہ ماہوار بھجواتے رہے ہیں۔حالانکہ پندرہ بیس روپیہ میں یہاں بھی انسان معقول گزارہ نہیں کر سکتا۔اور غیر ملکوں میں تو جہاں بہت زیادہ گرانی ہے۔پندرہ بیس روپے کوئی حیثیت ہی