خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 245

*1946 245 خطبات محمود اور وہ اس میں سے ان اثرات کو اخذ کر رہے ہیں جو ان کی قوموں پر پڑنے والے ہیں۔جب تک ایک اکثریت کو اقلیت نہ بنا دیا جائے اس وقت تک اکثریت کو تو کوئی خطرہ ہی نہیں ہو تا۔اکثریت صرف اس بات پر شور مچایا کرتی ہے کہ اس کو اور زیادہ حقوق مل جائیں۔یا بعض دفعہ وہ پوری طرح تسلی یافتہ ہوتی ہے مگر پھر بھی وہ اس لئے شور مچاتی ہے کہ کہیں اقلیت اس کے اطمینان کو دیکھ کر بعض اور مطالبات نہ پیش کر دے۔اس لئے کانگرس کے لئے تو یہ امر بالکل غیر اہم ہے۔سو میں سے پچھتر جن کی تعداد ہو ان کے لئے شور مچانے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔بلکہ پچھتر کی بجائے اگر بہتر یاستر یا باسٹھ یا ساٹھ فیصدی بھی ان کی تعداد ہوتی تب بھی ان کے لئے خطرہ کی کوئی بات نہیں تھی۔اصل خطرہ تو اقلیت کے لئے ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اگر اسے سارے حقوق مل جائیں تب بھی اس کی جان خطرہ سے آزاد نہیں ہو سکتی۔اگر کسی ملک کی اکثریت پچھتر فیصدی ہے اور اقلیت پچیس فیصدی اور پچیس فیصدی، اقلیت ایسی ہے جو اکثریت سے اتحاد نہیں رکھتی بلکہ اقلیت اور اکثریت دونوں آپس میں منافرت اور بغض رکھتی ہیں تو ایسی صورت میں اگر اقلیت کو اس کا ایک ایک حق مل جائے تب بھی چھپیں، پچھلیں ہی ہوں گے اور پچھتر ، پچھتر ہی ہوں گے۔بلکہ اگر اکثریت بہت بڑی فیاضی اور مہربانی سے اقلیت کو اس کے حقوق سے بھی زیادہ دے دے اور پچیس کی بجائے اسے تیس یا پینتیس یا چالیس فیصدی نیابت دے دے تب بھی اقلیت کے حقوق کی حفاظت کچھ زیادہ نہیں ہو جاتی۔کیونکہ کسی اسمبلی کے ساٹھ ممبروں کی رائے بھی وہی وقعت رکھتی ہے جو پچھتر ممبروں کی رائے وقعت رکھتی ہے۔بلکہ کسی اسمبلی کے اکیاون ممبروں کی رائے بھی وہی وقعت رکھتی ہے جو پچھتر ممبروں کی رائے وقعت رکھتی ہے۔بلکہ بعض صورتوں میں تو یوں کہنا چاہئے کہ کسی اسمبلی کے سوا پچاس ممبروں کی رائے بھی وہی وقعت رکھتی ہے جو سو میں سے پچھتر ممبروں کی رائے وقعت رکھتی ہے۔سو میں سے سوا پچاس ممبر تو ایک طرف نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر کسی اسمبلی کے ممبر چار سو ہوں تو اس کا سوا پچاس حصہ دو سو ایک ممبر ہو جائیں گے اور دو سو ایک ممبر بھی اسی طرح ایک سو ننانوے کو شکست دے سکتا ہے جس طرح تین سو شکست دے سکتا ہے۔تو اکثریت کے لئے خطرہ کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔اکثریت اگر شور مچاتی ہے تو یا تو وہ حریص ہوتی ہے