خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 234

*1946 234 خطبات محمود دراصل اسے سو من میں سے صرف چالیس من ہی بچتا ہے۔پس گندم خریدنے والے سے سومن والے زمیندار کی حالت اچھی نہیں ہوتی۔میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو پانچ چھ ہزار من غلہ بغیر کسی تکلیف کے جمع ہو سکتا ہے۔لیکن اب تک جو غلہ غرباء کے لئے جمع ہوتا ہے اس کی اوسط پندرہ سو من ہوتی ہے۔اس پندرہ سو من میں سے تین سو من تو ہمارے خاندان کا ہی ہو تا ہے۔اور باقی بارہ سو من ہمالیہ سے لے کر راس کماری تک اور کراچی سے لے کر پشاور تک تمام جماعت کا ہوتا ہے۔کتنی قلیل مقدار ہے جو جماعت کی طرف سے دی جاتی ہے حالا نکہ بہت سے گھروں میں مائیں اپنے بچوں کو کھلونوں کی جگہ آٹے کی گڑیاں بنا کر کھیلنے کے لئے دے دیتی ہیں۔اگر وہ گڑیوں والا آٹا ہی جمع کیا جائے تو کئی سو آدمیوں کی جان بچ سکتی ہے جو روٹی نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان کے دل میں بنی نوع انسان کے لئے درد ہو۔درد کے بغیر انسان کوئی چھوٹی سے چھوٹی قربانی بھی نہیں کر سکتا۔پس اگر تم حقیقی مسلم ہو اور اسلام کے لئے درد رکھتے ہو تو تمہیں اسلام کے مفہوم کو ہر وقت اپنے مد نظر رکھنا چاہئے۔اسلام کے معنے ہیں اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دینا اور اس کے بندوں پر رحم کرنا لیکن وہ تمام لوگ جو اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کے سپرد نہیں کرتے وہ مسلم کہلانے کے مستحق نہیں۔اسی طرح وہ تمام لوگ جو خدا تعالیٰ کے بندوں پر رحم نہیں کرتے وہ مسلم کہلانے کے مستحق نہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں بر عکس نهند نام زنگی کافور بھلا حبشی کا نام کافور رکھنے سے کیا بنتا ہے۔اسی طرح کئی آدمیوں کا نام سوہنا ہوتا ہے لیکن شکل دیکھو تو آنکھیں بند کرنے کو جی چاہتا ہے۔پس مسلم کہلانے سے کوئی شخص مسلم نہیں ہو سکتا۔جو شخص اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کے سپرد نہیں کرتا اور اس کے بندوں پر رحم نہیں کرتا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی بد صورت انسان ہو اور اس کا نام حسین رکھ لیا جائے۔کیا اس کا نام حسین رکھنے سے واقع میں وہ حسین ہو جائے گا؟ مسلم نام اس شخص کا ہے۔جو کلی طور پر اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کے سپر د کر دے اور کلی طور پر بنی نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول رہے۔اگر آج اس میں تھوڑی طاقت ہے تو وہ احمدیوں کی خدمت کرے۔اور اگر کل اسے زیادہ