خطبات محمود (جلد 27) — Page 233
*1946 233 خطبات محمود دو گرم گرم پھلکے پکا دیتی ہوں۔اسی طرح اور بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں اگر ان کا خیال رکھیں اور عور تیں کفایت شعاری سے کام لیں تو اخراجات کو کم کر کے اپنے لئے ثواب کا موقع پیدا کر سکتی ہیں اور اپنی طرف سے اس تحریک میں حصہ لے سکتی ہیں۔میں کئی سال سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں اور اس سال پھر اس خطبہ کے ذریعہ سے دوستوں کو توجہ دلا تا ہوں کہ یہ مصیبت کا سال ہے۔ایسا نہ ہو کہ ان کے غریب بھائی فاقوں سے بے حال ہو جائیں۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ مصیبت کے وقت جو لوگ اپنا مال دوسروں کے لئے خرچ کرتے ہیں انہیں کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے قرب کی راہیں کھولتا ہے۔جب ایک طرف تکلیف اور مصیبت کے دروازے کھلتے ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھلتے ہیں۔پس کوشش کرو کہ ان مصیبت کے ایام میں تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکو۔زمینداروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے لئے ثواب حاصل کرنے کا خاص موقع پیدا ہو ا ہے انہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔لائلپور، شیخوپورہ، سرگودھا، منٹگمری، ملتان اور سندھ کے زمیندار خاص طور پر میرے مخاطب ہیں۔جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے یہ آسانیاں پیدا کی ہیں کہ ان کو نہروں سے پانی ملتا ہے اور ان کی فصلوں میں بارش کے نہ ہونے سے کوئی خاص کمی نہیں ہوتی۔وہاں ان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے غریب بھائیوں کی امداد کریں۔سو میں سے ایک من کی شرط تو میں نے چھوٹے زمینداروں کے لئے رکھی ہے اور جو بڑے زمیندار ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے رستے میں اپنی توفیق کے مطابق حصہ لیں۔بڑے بڑے زمیندار جن کی گندم ہزار دو ہزار یا چار ہزار من یا دس ہزار من ہوتی ہے ان کے لئے سو من پر ایک من دے دینا کوئی قربانی نہیں۔جو شخص دس ہزار من غلہ فروخت کرتا ہے اس کو اتنا روپیہ آتا ہے جو اس کی ضرورتوں سے بہر حال زیادہ ہوتا ہے۔جب اس کو روپیہ زیادہ آتا ہے تو اس کو قربانی بھی اپنی حیثیت کے مطابق کرنی چاہئے۔سو من میں سے ایک من کی شرط تو چھوٹے زمینداروں کے لئے ہے۔دراصل چھوٹے زمیندار کو بہت ہی کم بچتا ہے۔کیونکہ اس نے گندم میں سے کئی کو بھی دینا ہو تا ہے، اس کی گندم میں اس کے بیلوں کا بھی حصہ ہوتا ہے اور اس میں سے اس نے گورنمنٹ کو بھی کچھ دینا ہوتا ہے۔