خطبات محمود (جلد 27) — Page 229
*1946 229 خطبات محمود ہے۔اس میں بے شک الہامات ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی فقرہ ہوتا ہے کہ آج رات مجھے یہ الہام ہوا۔یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کا نہیں ہوتا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زائد کردہ ہوتا ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب توریت میں ایسے فقرات اس وقت بھی موجود تھے جب وہ صحیح تھی۔پس وہ کتاب شروع میں بھی مکمل الہامی نہیں تھی۔اسی طرح انجیل کا حال ہے۔لیکن قرآن کریم میں یہ کہیں پتہ نہیں ملتا کہ فلاں رات مجھے یہ الہام ہوا۔شروع سے لے کر آخر تک گلامُ اللہ ہے۔پس ایک ہی مذہب ہے جس میں خدا تعالیٰ کے حقوق اور بنی نوع انسان کے حقوق ادا کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کا نام اسلام رکھا ہے۔یعنی اپنی جان کو خدا تعالیٰ کے سپر د کر دینا اور بنی نوع انسان کو امن بخشا۔اور ایک ہی کتاب ہے جس میں کسی انسان کا قول نہیں اور اس کے نام گلامُ اللہ میں ہی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ یہ زائد بات بھی کہہ لو کہ ہم جس نام سے خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں اس نام سے کوئی اور مذہب اسے نہیں پکارتا۔باقی سب نام مرکب ہیں جو دوسروں کے لئے بھی استعمال ہو جاتے ہیں۔جیسے ہندو پرم ایشور کہتے ہیں۔جس کے معنے ہیں بڑی روح۔گاڈ (God) بھی مرکب استعمال ہوتا ہے لیکن یہ نام مرکب نہیں۔پھر رسول کریم صلی لی کہ کا نام بھی اسم با مسمی ہے۔جیسے اللہ کے معنے ہیں تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہستی۔اسی طرح محمد کے معنے ہیں جس کی مذمت کوئی نہ کر سکے۔چنانچہ رسول کریم صلی ال ملک کو ایک دفعہ دشمنوں نے گالیاں دیں۔تو صحابہ بڑے جوش میں آگئے۔آپ نے فرمایا کیوں جوش میں آتے ہو وہ مجھے کب گالیاں دیتے ہیں وہ تو مذمم کو گالیاں دیتے ہیں۔میں تو محمد ہوں۔1 عرب کے لوگ یہ جانتے تھے کہ ان کا نام محمد ہے اور محمد نام لے کر گالی دینا مضحکہ خیز ہے۔اس لئے عرب کے لوگ آپ کو مُذَمَّم کہہ کر گالی دیتے۔پس ہمارے رسول کریم صلی علی ایم کو بھی وہ نام ملا جس کے ساتھ کوئی گالی نہیں دے سکتا۔اور ہمارے خدا کا وہ نام ہے جو کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔اور ہمارے مذہب کا وہ نام ہے جس میں وہ دونوں خصوصیات شامل ہیں جن کے لئے مذہب آیا کرتا ہے۔اور ہماری کتاب کو وہ نام ملا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں صرف اور صرف الہام ہی درج ہے۔مگر کیا ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے ؟ رسول کریم صلی یم نے فرمایا ہے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں۔