خطبات محمود (جلد 27) — Page 224
*1946 224 خطبات محمود ہوسا قوم جو اسلام کی تبلیغ کرنے والی ہے اس کی بھی وہاں بستیاں ہیں۔انہوں نے وہاں جا کر ایک مربع میل یعنی پونے آٹھ سو ایکڑ زمین ہمیں دے دی۔میں نے پھر کہا کہ آپ نے جو یہ زمین دی ہے اس کے متعلق یہ امر یا درکھیں کہ ہم اسے فوراً آباد نہیں کر سکیں گے۔معلوم نہیں آج سے چالیس یا پچاس سال کے بعد ہم اس زمین کو آباد کریں۔سر دست ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں جس سے ہم اس زمین پر اپنی عمارتیں کھڑی کر سکیں اس لئے اگر اس زمین کو آباد کرنے میں ہماری طرف سے دیر ہو تو آپ ہمیں طعنہ نہ دیں۔وہ کہنے لگا میں یہ زمین اب احمدیہ جماعت کو دے چکا ہوں۔آپ خواہ پچاس سال کے بعد اس پر کوئی عمارت بنوائیں یا سو سال کے بعد۔اب زمین آپ کی ہو چکی۔چنانچہ مولوی عبد الخالق صاحب نے لکھا ہے کہ سر کاری طور پر کاغذات تیار کئے جارہے ہیں جب مکمل ہو گئے تو قبالہ 4 قادیان بھیج دوں گا۔اب بظاہر حالات خدا تعالیٰ نے وہاں ہماری ترقی کا ایک سامان پیدا کر دیا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے متعلق بعد میں کیا صورت رو نما ہو۔ممکن ہے حکام کو پتہ لگے تو انگریزی حکومت زور دے کر اس حکم کو منسوخ کرا دے لیکن بظاہر اوہان ہن نے اس بارہ میں قطعی فیصلہ کر دیا ہے، نشانات لگائے جارہے ہیں اور انسپکٹروں سے اس نے کہہ دیا ہے کہ تین چار دن کے اندر اندر نشان لگا کر کاغذات کو سرکاری لحاظ سے مکمل کر دیا جائے اور میرے دستخط بھی کروا لئے جائیں اور پھر ان کو قبالہ دے دیا جائے۔اب ظاہر ہے کہ جب اس علاقہ میں زمین لے لی گئی تو لازما کچھ عرصہ کے بعد ہمیں وہاں عمارتیں بھی بنانی پڑیں گی، سکول بھی جاری کرنا پڑے گا اور پھر سکول کے لئے اور علاقہ کی تبلیغ کے لئے ہمیں مدرس بھی بھجوانے پڑیں گے اور مبلغ بھی بھجوانے پڑیں گے۔اگر وہاں کے لوگ ناواقف ہوتے ہوئے اور بت پرستوں میں سے نو وارد احمدی ہوتے ہوئے یہ قربانی کر سکتے ہیں تو کیا ہم ان کو یو نہی چھوڑ دیں گے ؟ اگر ان لوگوں کے اندر اسلام کی ترقی کا درد ہے تو ہمارے اندر کیوں نہیں ہو گا؟ اور اگر وہاں کے لوگ اسلام اور احمدیت کے لئے قربانی کر رہے ہیں تو ہمیں ان سے بہت زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔پس افریقہ میں جس قدر مبلغ پہلے بھجوائے جاچکے ہیں ان سے کئی گنا زیادہ مبلغین کی ہمیں اس ملک کے لئے ضرورت ہے۔افریقہ کے علاقہ میں ایک یہ بھی فائدہ