خطبات محمود (جلد 27) — Page 206
خطبات محمود 206 *1946 شاید تم میں سے ہر شخص حضرت خلیفہ اول کی مثال سُن کر مسکرادیتا ہو گا کہ وہ شخص کیسا احمق تھا جس نے کہا کہ جب لوگوں نے چڑیا جتنا روپیہ میرے سامنے لا کر رکھ دیا تو میں کیا کرتا۔مگر تم اپنے نفسوں میں غور کرو اور سوچو کیا تمہیں محسوس نہیں ہو تا کہ یہی کام تم بھی کر رہے ہو۔ہر وہ شخص جو اپنی اولاد میں سے ایک حصہ کو دین کی طرف نہیں بھیجتاوہ گویا چڑیا جتنے روپیہ کو محمد صلی للی نام کے احکام اور آپ کی تعلیم پر مقدم سمجھتا ہے اور اس کی مثال وہی ہے جیسے کہ کسی شاعر نے کہا کہ عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پر ڈالا جو بار اپنا گویا دین کا کام ایسا ہے جو گدھوں پر ڈال دینا چاہئے۔اور ان کا کام یہ ہے کہ وہ اس بوجھ کو گدھوں پر لاد کر خود دنیا کے کاموں میں مشغول ہو جائیں اور کہیں کہ۔عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پر ڈالا جو بار اپنا یاد رکھو! اگر تم خدا تعالیٰ کے سامنے منہ دکھانے کے قابل بن کر جانا چاہتے ہو، اگر تم نہیں چاہتے کہ قیامت کے دن تمہارے چہروں پر کول تار 3(Coaltar) کلا جائے، اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہیں ذلت اور نامرادی کا منہ دیکھنا پڑے اور اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہیں قیامت کے دن تمام اگلی اور پچھلی نسلوں میں شرمندہ اور ذلیل ہونا پڑے تو تمہیں اپنی ذمہ داریوں کو جلد سے جلد سمجھنا چاہئے اور دین کی حفاظت کے لئے اپنی نسلوں کو پیش کرنا چاہئے۔یہ مت خیال کرو کہ میں یا کوئی اور عظمند یہ سمجھ لے گا کہ تم جو اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے پیش نہیں کرتے۔اگر کسی وقت جہاد کا زمانہ آ گیا تو تم اپنے بچوں کو فوراً اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دینے کے لئے پیش کر دو گے۔ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ یقیناً اس وقت بھگوڑوں میں سے ہوں گے اور سب سے پہلے میدانِ جہاد سے پیٹھ موڑ کر بھاگ جائیں گے کیونکہ جو شخص چھوٹی قربانی نہیں کر سکتا وہ کبھی بڑی قربانی نہیں کر سکتا۔آخر مبلغ مارا نہیں جانتا، اسے ایسی تکلیفیں نہیں پہنچتیں جیسے جہاد میں پہنچتی ہیں۔پھر جو لوگ ان تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتے جو لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ سو کی بجائے چالیس میں ان کے بیٹے گزارہ کریں جو لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اپنے بیٹوں کو تجارت کی بجائے تبلیغ پر لگائیں