خطبات محمود (جلد 27) — Page 205
*1946 خطبات محمود 205 تب تک تم سے دین کی خدمت کی امید رکھنا عبث اور فضول ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی کے متعلق بعض دوستوں نے میرے پاس شکایت کی کہ وہ آپ کے بڑے دوست ہیں اور آپ ان کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے ایک لڑکی کی شادی پر شادی کر دی ہے۔آپ فرماتے تھے میں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے ، ضرور کوئی غلط فہمی ہو گی۔چنانچہ جب وہ ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے کہا مولوی صاحب! مجھے آپ پر بڑی حسن ظنی ہے لیکن مجھے آپ کی نسبت ایک شکایت پہنچی ہے جو میں بیان کر دیتا ہوں۔میں سمجھتا یہی ہوں کہ یہ شکایت غلط ہو گی۔وہ شکایت مجھے یہ پہنچی ہے کہ کسی شخص نے آپ کے متعلق یہ افتراء کیا ہے کہ آپ نے ایک لڑکی کی شادی پر شادی کر دی ہے۔وہ کہنے لگے مولوی صاحب! پہلے ساری بات مجھ سے پوچھ لیں پھر کوئی بات کریں۔مجھے اس کی بات سے شبہ پڑا کہ چونکہ مُلا آدمی ہے کوئی غلطی کر بیٹھا ہے۔معلوم ہوتا ہے زمینداروں نے مارا پیٹا ہو گا یاڈنڈے لے کر کھڑے ہو گئے ہوں گے کہ یہ نکاح پڑھو ورنہ ابھی تمہاری گردن توڑ دیں گے۔چنانچہ میں نے کہا۔آخر ہوا کیا کچھ فرمائیے! تاکہ مجھے بھی پتہ لگے کہ آپ کو کیا حالات پیش آئے تھے۔انہوں نے جواب دیا۔مولوی صاحب آپ ہی سوچئے جب انہوں نے چڑیا جتنا سفید روپیہ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا تو میں کیا کرتا۔گویا کتنا بڑا ظلم ہے کہ لوگ میری شکایت کرتے ہیں حالا نکہ جب انہوں نے ایک چمکتا ہوا روپیہ میرے سامنے لا کر رکھ دیا تو اس کے بعد یہ ہو کس طرح سکتا تھا کہ میں اپنے ایمان کو بچالیتا۔ایک طرف خدا تعالیٰ تھا اور ایک طرف روپیہ۔اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نَعُوذُ باللہ روپیہ کے سامنے خدا تعالیٰ کی کیا حقیقت ہے کہ روپیہ کو تو چھوڑ دیا جاتا اور خدا تعالیٰ کو نہ چھوڑا جاتا۔اسی طرح ہماری جماعت کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان کا بیٹا چمکتا ہواروپیہ کما کر لاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں دین کی تبلیغ اور اسلام کے بچاؤ کا کام کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔ہم اپنے بیٹے کو ایسے لغو کام پر کس طرح لگا سکتے ہیں کہ وہ ساری عمر لوگوں کو قرآن پڑھاتا اور بھولے بھٹکوں کو دین کی طرف بلاتا رہے۔ہم اسے کسی ایسے کام پر کیوں نہ لگائیں جس سے وہ چمکتا ہوا روپیہ ہمارے پاس لائے۔سکتا؟