خطبات محمود (جلد 27) — Page 182
*1946 182 خطبات محمود لوگوں کے قلوب کو صداقت کی طرف مائل کر رہی ہے۔ایک طرف افریقہ کے حبشیوں میں سے زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کے متعلق اپنی رغبت کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف عربوں میں باوجود ان کی شدید مخالفت اور تکبر کے ایک طبقہ ایسا پیدا ہو رہا ہے جو احمدیت کے اصول کو درست سمجھتا اور اس کی تعلیم سے رغبت رکھتا ہے۔ابھی گزشتہ دنوں ہماری جماعت کے ایک دوست مصر گئے تو انہوں نے ازہر یونیورسٹی کے ایک بہت بڑے عالم سے جو وہاں کے وائس پریذیڈنٹ اور مفتیوں کی مجلس کے صدر ہیں سے سوال کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں وہ یہ دلائل دیتے ہیں۔آپ بتائیں کہ اصل حقیقت کیا ہے ؟ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟ اس عالم نے بڑی دلیری سے جواب دیا کہ قرآن کریم سے تو یہی پتہ لگتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔نیز انہوں نے مُتَوَفِّيكَ کے معنوں کے متعلق لکھا کہ جہاں تک ہم عرب لوگ اس لفظ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں توفی کے معنے قبض روح کے ہی ہیں۔ان سے یہ بھی سوال کیا گیا تھا کہ اگر توفّن کے معنے موت کئے جائیں اور کہا جائے کہ قرآن کریم سے حضرت عیسی کی وفات ثابت ہے تو اس سے احمد یہ جماعت کو تقویت پہنچے گی۔انہوں نے بڑی دلیری سے اس کے جواب میں لکھا کہ مجھے احمدیت کے پھیلنے یا نہ پھیلنے سے کوئی غرض نہیں۔اگر احمدیت پھیلتی ہے تو بے شک پھیل جائے قرآن کریم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اب دیکھو یہ کتنا دلیرانہ بیان ہے کہ ہر قسم کی ملامت سے بے خوف ہو کر انہوں نے کہہ دیا کہ دنیا خواہ کچھ کہے حقیقت یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں کیونکہ قرآن کریم سے یہی ثابت ہوتا ہے۔غرض ایک عظیم الشان تغیر ہے جو دنیا میں پیدا ہو رہا ہے اور ایک رو ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلائی جارہی ہے۔پچھلے سال از ہر یونیورسٹی کے ایک بہت بڑے عالم نے بیعت کی تھی۔اب تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ از ہر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے چار طلباء احمدی ہو گئے ہیں مگر انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے نام ابھی ظاہر نہ کئے جائیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں یہاں سے نکال دیا جائے۔ایک انگریز نو مسلم کی