خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 181

*1946 181 خطبات محمود ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتی۔لیکن اگر ہم اسلام کے غلبہ اور اس کی فتح کے دن کو ہر قسم کے اسباب سے کام لے کر اپنے قریب نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمیں اس دن کو اور زیادہ دور تو نہیں کرنا چاہئے۔اس وقت ساری دنیا سے ہمیں آوازیں آرہی ہیں اور لوگ پکار پکار کر ہم سے اپنی ضروریات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ آوازیں اتنی کثرت اور اس قدر تواتر کے ساتھ آرہی ہیں کہ ہم ان کا جواب دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔آدمی ہمارے پاس نہیں کہ ہم مختلف ممالک کو مہیا کر سکیں اور مطالبات ہیں کہ وہ روز بروز بڑھتے چلے جاتے ہیں۔درجنوں آدمیوں کا افریقہ سے مطالبہ ہو رہا ہے اور درجنوں آدمیوں کی دوسرے غیر ممالک میں ضرورت ہے۔ابھی سماٹرا اور جاوا کے راستے کھلنے والے ہیں اور وہاں ہمیں درجنوں آدمی بھجوانے کی ضرورت ہو گی۔ان علاقوں سے جو خطوط آئے ہیں ان میں دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے اس جنگ میں اپنی آنکھوں سے وہ نظارے دیکھے ہیں جن کا قیامت کے متعلق پہلے ہم خیال کیا کرتے تھے۔ان نظاروں کو دیکھنے کے بعد اب ہم سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنا ہمارے لئے آسان ہے۔پہلے ہمیں پتہ نہیں تھا کہ دنیا کن کن حالات میں سے گزرنے والی ہے لیکن اب جبکہ ان حالات کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ہمیں اپنی زندگیاں بالکل حقیر معلوم ہوتی ہیں اور دنیا کا عیش اور آرام ہماری نگاہ میں بالکل بے حقیقت ہو گیا ہے کیونکہ ہم چار سال تک ایک دوزخ میں رہے ہیں اور ہم نے وہ نظارے دیکھے ہیں جنہوں نے دنیا کی محبت ہم پر سرد کر دی ہے۔یہ وہ ممالک ہیں جن میں رہنے والوں کے دل بالکل ہلے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں زیادہ زور کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی جائے۔چنانچہ اب جوں جوں رستے کھلتے چلے جائیں گے ہمیں ان ممالک کی طرف زیادہ سے زیادہ لوگ بھجوانے پڑیں گے۔اسی طرح یورپ اور دوسرے ممالک کے لئے بھی ہمیں در جنوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں خود بخود ایسے سامان پیدا کر رہا ہے جو اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے نہایت خوش کن ہیں اور آسمان سے ایک ایسی ہوا چل رہی ہے جو