خطبات محمود (جلد 27) — Page 172
*1946 172 خطبات محمود وہ کہے گا تم میں کھاتے پیتے لوگ بھی تھے۔اگر احمدیت نے لوگوں کے دلوں میں واقع میں اخلاص پیدا کیا تھا تو وجہ کیا ہے کہ جو لوگ کھاتے پیتے ہیں انہوں نے اپنی اولادیں دین کی خدمت کے لئے وقف نہیں کیں۔میں جانتا ہوں کہ ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہم اس کا جواب دے کر دشمن کو ساکت نہیں کر سکتے۔ہم سر خرو ہو کر اس کے سامنے سے نہیں اٹھ سکتے۔ہمیں ضرور شر مندگی اٹھانی پڑے گی۔ہمارے جسم پر ضرور پسینہ آ جائے گا، ہماری زبان ضرور لڑکھڑانے لگ جائے گی اور ہمارا دل ضرور دھڑ کنے لگ جائے گا۔کیونکہ یہ وہ بات ہے جس کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس کا سو فیصدی درست جواب دے سکتے ہیں۔آخر جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کے غریب اچھے ہوں یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کے امیر اچھے ہوں۔یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کے مرد اچھے ہوں۔یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کی عورتیں اچھی ہوں۔یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کے بچے اچھے ہوں۔یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کے متوسط الحال لوگ اچھے ہوں۔یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اس کے علماء اچھے ہوں۔یا جماعت اس کے معنے تو نہیں کہ اسکے جہلاء اچھے ہوں بلکہ جماعت اس کے معنے ہیں کہ اس کا ہر گروہ بحیثیت جماعت اچھا ہو۔وہی جماعت اچھی کہلا سکتی ہے جس کے امراء بھی بحیثیت جماعت اچھے ہوں۔شاذ و نادر کے طور پر اگر ان میں سے کوئی بگڑا ہوا ہو تو یہ اور بات ہے۔ورنہ صحیح معنوں میں جماعت وہی کہلا سکتی ہے جس کے عام طور پر امراء بھی اچھے ہوں اور جس کے عام طور پر غرباء بھی اچھے ہوں۔جس کے عام طور پر علماء بھی اچھے ہوں اور جس کے عام طور پر جہلاء بھی اچھے ہوں، جس کے عام طور پر مرد بھی اچھے ہوں اور جس کی عام طور پر عورتیں بھی اچھی ہوں، جس کے عام طور پر بچے بھی اچھے ہوں اور جس کے عام طور پر بوڑھے بھی اچھے ہوں۔اگر کسی جماعت کا کسی ایک گروہ پر اثر پڑتا ہے دوسروں پر نہیں تو وہ یقیناً آسمانی جماعت نہیں کہلا سکتی۔اس لئے کہ وہ محدود اثر رکھنے والی ہو گی۔وہ قومی جماعت تو کہلا سکتی ہے مگر خدائی نہیں۔خدائی جماعت وہ ہوتی ہے جو ہر گروہ کو مخاطب کرتی اور اپنے ہر مخاطب کو اپیل کرتی ہے۔