خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 129

*1946 129 خطبات محمود یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ سندھی لوگوں کی نسبت زیادہ محنتی ہیں۔ایک دوست جو کہ زراعت کے محکمہ میں افسر ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے لائلپور میں دو مربعے ہیں اور انہوں نے دونوں 6400 روپے سالانہ ٹھیکہ پر دیئے ہوئے ہیں۔یعنی انہیں فی مربع 3200 روپیہ ملتا ہے۔اگر ہمیں بھی 3200 روپیہ فی مربع آمد ہو تو تحریک جدید کے 400 مربعوں سے ہمیں بارہ تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو جائے۔لیکن ہمیں ابھی تک ایک لاکھ روپیہ کی آمد ان زمینوں سے ہوتی ہے۔یہ ایام قیمتوں کی زیادتی کے ہیں۔اگر قیمتیں گر جائیں اور پیداوار کی یہی حالت رہے تو پھر تو پچاس ساٹھ ہزار کی آمد کا اندازہ رہ جاتا ہے لیکن تحریک کے واقفین اور دوسرے کارکن عقل اور قربانی اور محنت سے کام لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پنجاب کے برابر آمد یہاں سے پیدا نہ کر سکیں۔بہر حال اس سال میں کارکنوں کے کام پر خوش ہوں اور ان کے اچھے کام کی تعریف کرتا ہوں۔پہلے تمام سالوں سے اس سال فصلیں اچھی ہیں اور آئندہ فصلوں کی تیاری بھی اچھی ہے۔اب ایک بات کی نگرانی باقی ہے کہ جس طرح انہوں نے پہلے محنت اور کوشش سے کام کیا ہے اسی طرح اب فصلوں کے کاٹنے میں بھی حفاظت سے کام لیں اور پوری پوری نگرانی کریں کہ فصل کا کوئی حصہ بھی ضائع نہ ہو۔اگر کارکنوں نے پوری طرح نگرانی کی تو مجھے امید ہے محمد آباد کی فصل تمام اسٹیٹوں سے بڑھ جائے گی۔اور اگر ان اسٹیٹوں کی فصل بھی اس کے برابر ہو گئی یا اس سے بڑھ گئی تو میں سمجھوں گا کہ محمد آباد کے کارکنوں نے فصل کی پوری طرح حفاظت نہیں کی۔اگر آج ہم زراعت کی طرف متوجہ ہیں تو محض اس لئے کہ ان جائیدادوں کے ذریعہ قرآن کریم اور حدیث اور اسلام کی تائید کے لئے کتابیں پھیلا سکیں۔اگر ہم تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو محض اس لئے کہ ہماری اتنی آمد ہو جائے کہ اس سے ہم اسلام اور احمدیت کی تمام دنیا میں اشاعت کر سکیں۔پس ہمارا زراعت اور تجارت کی طرف متوجہ ہونا دنیوی معاملہ نہیں بلکہ دینی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہم ہندوستان میں دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں دوسو کے مقابلہ میں ایک ہیں اور دنیا کی آبادی دو ارب ہے اس لئے ہم دنیا کے مقابلے میں چار ہزار کے