خطبات محمود (جلد 27) — Page 120
خطبات محمود 120 *1946 محروں نے جو قربانی مذہبی جذبات کے ماتحت کی ہے وہ کسی اور صوبہ کے لوگوں میں نظر نہیں آتی۔ان کی عورتوں اور ان کے مردوں نے ایک شاندار قربانی کا مظاہرہ کیا۔اگر یہ لوگ احمدیت قبول کر لیں تو وہ اس سے بڑھ کر قربانی کا نمونہ دکھا سکتے ہیں۔پس سندھیوں میں تبلیغ کرنے کے لئے یہ بہت ضروری بات ہے کہ ہر سال کچھ سندھی طالب علم قادیان جائیں اور سال دو سال کی تعلیم کے بعد واپس آکر سندھیوں میں تبلیغ کریں۔اس وسیع علاقے میں جس کی آبادی ساٹھ ستر لاکھ ہے اور جس کے سات ضلعے ہیں ہمارے ایک یادو مبلغ کیا کر سکتے ہیں۔اس کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ کوئی شخص دریا کو روکنے کے لئے اس کے دہانہ میں گندم کا دانہ رکھ دے اور سمجھ لے کہ در پارک جائے گا۔ایسا کرنے والے کو سب لوگ بے وقوف خیال کریں گے۔اگر دریا کو روکنا ہو تو اس کے مطابق انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔ہم نے قادیان کے ارد گرد تھوڑے سے علاقہ میں پندرہ بیس مبلغ رکھے ہیں مگر پھر بھی وہ تھوڑے معلوم ہوتے ہیں۔پس اگر ہم سندھ میں موثر طور پر تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا یہی ذریعہ ہے کہ ہر سال کچھ طالب علم قادیان جائیں اور ان کو ضروری مسائل سکھا کر یہاں مقرر کر دیا جائے۔اور اگر کسی بڑے مولوی سے ٹکر ہو جائے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مولوی غلام احمد صاحب کو یا اور جو مبلغ یہاں ہو اسے بلا لیا جائے۔تبلیغ کے لئے اس بات کی ضرورت نہیں کہ انسان بہت بڑا عالم ہو بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان کے اندر تبلیغ کے لئے جوش ہو۔صرف پڑھائی کچھ کام نہیں آتی جب تک کہ اس کا استعمال نہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ زراعت کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں سے بسا اوقات معمولی معمولی زمیندار بعض باتوں میں زیادہ علم رکھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دن رات کام کرنے کی وجہ سے ان کا تجربہ صرف کتابی علم رکھنے والوں سے بعض باتوں میں بڑھ جاتا ہے۔ہمارے ایک احمدی دوست جن کا نام شیر محمد تھا اور وہ بنگہ کے رہنے والے تھے یگہ چلایا کرتے تھے۔وہ بالکل ان پڑھ تھے لیکن ان کے ذریعہ اتنے احمدی ہوئے کہ کئی مبلغ بھی ان سے پیچھے ہیں۔اس وقت سلسلہ کا اخبار الحکم ہی تھا اور ہفتہ وار نکلتا تھا۔باوجو د اس کے کہ وہ پڑھے لکھنے نہ تھے لیکن الحکم با قاعدہ منگواتے تھے۔اخبار پاس رکھتے۔جب یکہ چلاتے تو یکہ میں