خطبات محمود (جلد 26) — Page 89
$1945 89 خطبات محمود جس کی حالت یہ ہو کہ اگر کوئی اسے رو کے کہ نماز نہیں پڑھنی اور خواہ اس پر سختی کی جائے اور اس کو زخمی کر دیا جائے اور اسے گھسٹ کر جا کر نماز پڑھنی پڑے تو بھی وہ نماز نہ ترک کرے تو اس کی نماز اس کی نماز ہے۔خواہ یہ خیال تین چار سال کے بچہ میں پید اہو جائے۔بہر حال میں بتارہا تھا کہ دینی کام ہمیشہ طوعی ہی ہوتے ہیں۔جب عبادت میں بھی وہی عبادت فائدہ مند ہوتی ہے جو طوعی ہو اور دل کی محبت کے ساتھ کی جائے تو یہ چندے تو اس سے زیادہ طوعی ہیں۔پس تحریک جدید کا ابتدائی دور بھی طوعی تھا اور یہ دور بھی طوعی ہے۔ہر شخص جو خدا تعالیٰ کی محبت اور اسلام کی خدمت کے لئے اس میں حصہ لیتا ہے خدا تعالیٰ اس کی قربانی کو قبول کرے گا اور اسے اپنی طرف بڑھنے کا موقع دے گا۔اور ہر وہ شخص جو کسی مجبوری کی وجہ سے حصہ نہیں لیتا مگر اُس کا دل چاہتا ہے کہ حصہ لے تو خدا تعالیٰ اس کی دلی خواہش اور کوشش کو ضائع نہیں کرے گا اور اس کے لئے ان برکتوں میں حصہ لینے کے سامان پید کر دے گا۔لیکن ہر وہ شخص جس کے دل میں اسلام کی محبت نہیں رہی اور باوجود طاقت رکھنے کے اور دیکھنے کے کہ مجھ سے زیادہ غریب آدمی حصہ لے رہے ہیں وہ حصہ نہیں لیتا اور سمجھتا ہے کہ اس میں حصہ لینا طوعی ہے اور ہمیں کوئی مجبور نہیں کرتا کہ ہم اس میں ضرور حصہ لیں تو وہ شخص اپنی عاقبت کا خود ذمہ دار ہے۔ہم نہ اس کے ٹھیکیدار ہیں اور نہ ذمہ دار۔اگر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کے پاس اس کے اعمال کا بڑا ذخیرہ پڑا ہے اور زیادہ اعمال کی مجھے ضرورت نہیں تو وہ بے شک مطمئن ہو۔لیکن اگر خدا کے سامنے اس کے ذخیر ہ اعمال میں سے بہت سے اعمال کھوٹے بھی ہیں تو پھر اگر طوعی اعمال کو ضائع کرتا ہے تو اس سے زیادہ قابل افسوس اور قابلِ حسرت حالت میں اور کون ہو سکتا ہے۔تو یہ جو طوعی چندوں کا سلسلہ ہے اس میں اکثر دوستوں نے حصہ لے لیا ہے گو اس وقت تک اس رقم کی مقدار اتنی تو نہیں جتنی ایک سال کے لئے ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا تبلیغی مشنوں کو چلانے کے لئے ہمیں اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔لیکن کل تک جو رپورٹ میرے پاس آچکی ہے اس کے حساب سے دولاکھ پندرہ ہزار کے وعدے آچکے ہیں۔چونکہ ابھی بیر و نجات سے وعدے آنے ہیں اور فوجیوں کی طرف سے بھی اور ان