خطبات محمود (جلد 26) — Page 85
$1945 85 خطبات محمود مقرر کی گئی تھی وہ ختم ہو چکی ہے۔باقی جیسے میں نے بتایا تھا اگر کوئی صاحب توفیق ہے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اسلام کی خدمت کا جذبہ پایا جاتا ہے تو طوعی کہنا تو الگ رہا اگر لوگ اس کے رستہ میں روک بن کر کھڑے ہو جائیں تب بھی وہ راستہ نکال کر ضرور اس میں حصہ لے گا۔کیونکہ اس کے دل میں جو محبت خدا تعالیٰ کی پائی جاتی ہو گی اس محبت کی وجہ سے کوئی چیز اُس کو اسلام کی خدمت کا کام کرنے سے روک نہیں سکے گی۔دنیا میں مختلف قسم کے کام ہوتے ہیں۔کوئی کام جبری ہوتا ہے لیکن وہ جبری، سیاسی جبری نہیں ہو تا جیسے ماں باپ اپنے بچوں سے کام لیتے ہیں۔کوئی کام طاقت سے کروایا جاتا ہے جیسے کسی کو مار پیٹ کر اس سے کام کرایا جائے۔کوئی کام سیاسی جبری ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس کام کو کرنے سے انکار کرے تو اسے قید میں ڈالا جاتا ہے۔لیکن دینی کام تو ہمیشہ طوعی ہی رہے ہیں اور طوعی ہی رہیں گے۔اور طوعی کاموں میں ہی برکتیں ہوتی ہیں۔مار مار کر کسی کو نماز پڑھانا نماز پڑھنے والے کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتا۔وہ نماز جس میں کھڑے ہو کر وہ یہ سوچتار ہے کہ مجھے فلاں نے مار کر نماز پڑھائی ہے ورنہ میں کیوں پڑھتا تو اس کی نماز نماز نہیں ہو گی۔حضرت بابا نانک کے متعلق ایک بات مشہور ہے نامعلوم وہ کہاں تک سچی ہے لیکن وہ بڑی اچھی بات ہے۔غالباً پشاور کی کسی مسجد میں بابا صاحب نے امام کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد نماز توڑ کر الگ پڑھنی شروع کر دی۔سلام پھیرنے کے بعد امام نے پوچھا کہ آپ نے جماعت کے ساتھ نماز توڑ کر الگ نماز کیوں شروع کر دی ؟ یہ تو آپ نے نہایت نادرست اور تقویٰ کے خلاف کام کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ میں کمزور آدمی ہوں آپ کے پیچھے نماز کس طرح پڑھ سکتا تھا۔بات یہ تھی کہ نماز پڑھاتے وقت امام کے دل میں جو خیالات گزر رہے تھے وہ بابا صاحب پر کشف میں ظاہر ہو گئے۔امام جب نماز پڑھانے کے لئے گھر سے آیا تو وہ یہ سوچ رہا تھا کہ میرا گزارہ امامت سے نہیں ہوتا کوئی اور کام کرنا چاہیے۔اس نے سوچا کہ جو قافلہ تجارت کرنے کے لئے یہاں سے بخارا جارہا ہے کسی سے کچھ روپیہ قرض لے کر اس کا سامان خرید کر بخار ابھیج دوں۔اس سامان کو فروخت کر کے وہاں سے کوئی اور سامان خرید لائیں گے۔اسے یہاں فروخت کر کے اس کا پھر اور سامان خرید کر بخارا بھیجوں گا۔