خطبات محمود (جلد 26) — Page 82
$1945 82 خطبات محمود اس اڑھائی لاکھ میں ابھی ایک چیز میں نے شامل نہیں کی۔اور وہ یہ کہ جو مبلغین باہر جائیں گے ان کے سفر خرچ پر بھی چالیس پچاس ہزار روپیہ خرچ ہو گا بلکہ اس بھی زیادہ۔اس وقت تک چار مبلغ افریقہ جاچکے ہیں اور دو تیاری کر رہے ہیں۔باقی ہر ملک کے لئے میں نے مبلغ مقرر کر دیئے ہیں جو ممالک قریب ہیں اُن کا کرایہ کم ہے اور جو دور ہیں اُن کا زیادہ ہے۔مثلاً افریقہ جانے کے لئے ڈیڑھ ہزار روپیہ کرایہ خرچ ہوتا ہے۔اور جو ممالک دور ہیں وہاں کے لئے اڑھائی تین ہزار روپیہ کرایہ خرچ ہوتا ہے۔اگر ڈیڑھ ہزار روپیہ ہی اوسط لگالی جائے تو اس لحاظ سے سینتیں مبلغوں کا پچپن چھپن ہزار روپیہ تو صرف کرایہ کا خرچ ہے۔اور یہ بھی تھرڈ کلاس کا کرایہ ہے یہ نہیں کہ وہ بڑے آرام سے سفر کریں گے۔آخر جو کرایہ مقرر ہے وہی دینا پڑے گا اِس میں کفایت کرنا تو ہمارے اختیار کی بات نہیں۔تو یہ رقم ابھی میرے اس حساب سے باہر ہے۔بہر حال اگر اس کو بھی شامل کر لیا جائے تو تین لاکھ روپیہ کی اس سال ضرورت ہو گی۔اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق دے کہ وہ ان تینوں باتوں کی اہمیت کو سمجھے اور دوسروں پر ان کی اہمیت اور معقولیت واضح کرے اور اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ وہ خوشی خوشی ان بوجھوں کو اپنے سروں پر اٹھا لیں اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔اور اللہ تعالیٰ نئے نئے لوگوں کو پیدا کرے کچھ ہمارے گھروں میں اور کچھ باہر سے لا کر جو اس بوجھ کو ہم سے بھی زیادہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔اور اس قسم کی قربانی کی روح اپنے ساتھ لائیں کہ یہ کام بجائے گھٹنے کے ہر سال بڑھتا چلا جائے اور ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ لیں کہ ہر ملک میں اسلام کی تبلیغ پھیل چکی ہو۔ہمارے مبلغ ہزاروں کی تعداد میں تبلیغ کر رہے ہوں اور لاکھوں لاکھ آدمی ہر ملک میں احمدیت میں داخل ہو چکے ہوں۔ہم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ لیں کہ دشمن بھی اقرار کرے کہ اب اسلام پھیل چکا اور اب احمدیت دنیا پر غالب آگئی۔اب اس کا مقابلہ کرنا فضول ہے۔یہ خدا کی بات تھی جو پوری ہو گئی۔آمین“ الفضل مورخہ 8 فروری 1945ء) 1: الرحمن: 20،21