خطبات محمود (جلد 26) — Page 75
خطبات محمود 75 $1945 میں نے ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو قلیل سے قلیل اندازہ لگایا ہے تاکہ میں اس کے مطابق کام شروع کر دوں وہ یہ ہے کہ میں نے تجویز کیا ہے کہ تین مبلغ عربی ممالک میں ، دو ایران میں ، دو سپین میں، دو فرانس میں، دو اٹلی میں، تین جرمنی میں (جس میں ہالینڈ بھی شامل ہو گا) تین انگلستان میں ، تین شمالی امریکہ میں اور دو جنوبی امریکہ میں رکھے جائیں۔یہ سارے بائیس مبلغ بنتے ہیں اور یہ قلیل سے قلیل تعداد ہے جس سے کام شروع کیا جا سکتا ہے۔اور اس سے کم تعداد میں کسی صورت میں بھی کام نہیں کیا جاسکتا۔جب میں نے ان کے اخراجات کا اندازہ لگایا تو تین مبلغ انگلستان میں ، تین جرمنی میں، دو فرانس میں ، دو اٹلی میں ، دو سپین میں ، دوایران میں، تین عرب میں ، تین شمالی امریکہ میں اور دو جنوبی امریکہ میں، بائیس مبلغ تو یہ ہو گئے۔اور پندرہ مبلغ افریقہ میں۔یہ گل سینتیں مبلغ ہو گئے۔اور سینتیں مبلغ ان کو فارغ کرنے کے لئے مرکز میں رکھے جانے چاہئیں۔ان 74 مبلغوں کے لئے میں نے دو لاکھ پچاس ہزار روپیہ سالانہ کا اندازہ لگایا ہے۔ہمارا تحریک جدید کا دسویں سال کا جو چندہ تھا اگر جماعت کی قربانی کا معیار گیارھویں سال میں اس کے مطابق ہو تا تو اس سے یہ کام چل سکتا تھا۔دسویں سال تحریک جدید کے تین لاکھ تیس ہزار سے کچھ زائد کے وعدے تھے اور ان میں سے تین لاکھ اٹھائیس ہزار روپیہ وصول ہو چکا ہے۔اگر جماعت کی قربانی اس معیار پر قائم رہتی تو یہ ایسی رقم تھی کہ اس سے ان سینتیس مبلغوں کے اخراجات کا انتظام ہو سکتا تھا۔اور پھر اتنے ہی آدمی یہاں قادیان میں بھی رکھے جا سکتے تھے جو مدرسہ کو جاری رکھیں۔اور پہلے مبلغوں کو جو باہر گئے ہوئے ہوں جب ان کو واپس بلایا جائے (تاکہ ان کی نسل اور ان کی بیویاں تباہ نہ ہوں اور یوں بھی پہلوں کا واقفیت کے لئے بار بار قادیان آنا ضروری ہے) تو ان لوگوں کو ان کی جگہ بھجوایا جائے۔پس اگر جماعت کی قربانی کا وہی معیار قائم رہتا جو دسویں سال میں تھا تو اس سکیم کو جاری کرنا مشکل نہیں تھا۔تین لاکھ تیس ہزار روپیہ کی آمد سے دو لاکھ پچاس ہزار کا خرچ سینتیں مبلغوں کا کام چلانے کے لئے کافی ہو جاتا۔اور باقی کو ریزرو فنڈ کے طور پر جمع رکھا جاتاتا فوری ضرورتوں کے وقت اس سے کام لیا جا سکے۔اسی وجہ سے میں نے گیارھویں سال کے لئے