خطبات محمود (جلد 26) — Page 74
$1945 74 خطبات محمود پھر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر ایک مرکز میں مبلغین کی تعداد کم کر دی جائے۔اور میں نے یہ تجویز کیا کہ انگلستان میں بجائے پورا مرکز رکھنے کے آدھا مر کز رکھا جائے یعنی چھ کی بجائے تین مبلغ رکھے جائیں۔اور اسی طرح امریکہ میں بھی آدھا مرکز ر کھا جائے اور تین مبلغ وہاں رکھے جائیں۔اور باقی جتنے مراکز ہیں ان میں دو دو مبلغ رکھے جائیں۔گویا ایک مرکز کا ایک تہائی حصہ وہاں رکھیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک ایک مرکز میں دو دو مبلغ رکھنا کوئی موئثر تبلیغ نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ یہ ممالک ہیں شہر نہیں۔لیکن بہر حال کام چلانے کے لئے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ تین مبلغ انگلستان میں، دو فرانس میں، دو جرمنی میں اور اگر ایک زائد کا انتظام ہو گیا تو جرمنی میں تین کر دیئے جائیں گے اور ہالینڈ کو بھی اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔گویا دو جرمنی کے لئے اور ایک ہالینڈ کے لئے اور دو مبلغ اٹلی میں اور دو سپین میں۔یہ گویا قلیل سے قلیل دائرہ تبلیغ ہے۔اور پھر ادھر فلسطین اور شام اور ایران ہیں۔فلسطین اور شام میں ہمارا صرف ایک مشنری کام کر رہا ہے۔مگر خدا کے فضل سے ان لوگوں میں بیداری پائی جاتی ہے اور یہ لوگ جلد صداقت قبول کرتے معلوم ہوتے ہیں اور یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہم پر بڑا احسان ہے۔اگر عرب، فلسطین، شام، عراق اور مصر کے لوگ دور دور دنیا کے کناروں تک اسلام نہ پہنچاتے تو ہم تک یہ نعمت نہ پہنچتی۔ہم میں سے ہر ایک کی گردن ان ملکوں کے احسان کے نیچے جھکی ہوئی ہے۔کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ ہمیں انہوں نے پڑھایا۔اب ہمارا بھی حق ہے کہ اگر وہ اس لا اِلهَ اِلَّا اللہ کے اصلی معنوں کو بھول گئے ہیں تو ہم دوبارہ ان کو یاد کرائیں۔ایک شریف آدمی جب تک ایک معمولی سے معمولی احسان کا بدلہ بھی اتار نہیں لیتا اُس وقت تک اسے چین نہیں آتا۔اور یہ تو اتنا بڑا احسان ہے کہ اگر ہم اتنے بڑے احسان کا بدلہ نہ اتاریں تو حد درجہ کی بے حیائی کہلائے گا۔تو یہاں مشن قائم کرنے بھی ضروری ہیں اس کے لئے اگر ہم قلیل سے قلیل تعداد میں مبلغ رکھیں تو کم از کم تین عرب میں اور دو ایران میں ہونے چاہئیں۔اس سے کم تعداد میں کام ہو سکتا ہی نہیں۔دراصل تو بیسیوں مبلغ عربی ممالک میں اور درجنوں ایران میں ہونے چاہئیں۔پھر افریقہ ہے جہاں خدا تعالیٰ کے ں سے جماعت بڑھ رہی ہے اور نہایت سرعت کے ساتھ ہماری تبلیغ پھیل رہی ہے۔