خطبات محمود (جلد 26) — Page 478
$1945 478 خطبات محمود پیٹ خوب بھر گیا اور میں نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو اور نہیں پیا جاتا۔فرمایا پھر پیو۔میں نے پھر پینا شروع کیا اور اتنا پیا کہ دودھ میرے ناخنوں تک سرایت کر گیا اور میں نے کہا یار سول اللہ ! اب تو دودھ میرے ناخنوں سے ٹپکنے لگ گیا ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بچا ہوا دودھ خود لے کر پی لیا۔6 غرض یہ حالت ہوتی تھی کہ مجھے بعض دفعہ سات سات دن کا فاقہ کرنا پڑتا تھا اور بعض دفعہ زیادہ فاقہ کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر جاتا۔لوگ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور چونکہ عربوں میں رواج تھا کہ جسے مرگی کا دورہ ہو اُس کے سر پر جوتیاں مارتے تھے اس لئے وہ مجھے مرگی کا مریض سمجھتے ہوئے میرے سر پر جوتیاں مارنے لگ جاتے تھے حالانکہ میں ضعف کی وجہ سے بیہوش ہو تا تھا۔غرض ایک تو وہ دن تھا کہ میں بھوک کی وجہ سے بیہوش ہو جاتا تو لوگ میرے سر پر جوتیاں مارتے اور یا آج یہ حالت ہے کہ شاہ ایران کے اُس رومال میں میں تھوک رہا ہوں۔7 جس میں کہ بادشاہ کو بھی ٹھوکنے کی جرات نہیں ہوتی تھی اور جسے وہ تخت شاہی پر بیٹھتے وقت بطور زینت استعمال کیا کرتا تھا۔لیکن کچھ لوگ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت حمزہ کی طرح تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے لئے قربان کر دیں اور انہوں نے اس دنیا میں کوئی بھی سکھ نہ دیکھا۔اگر یہی دنیا ہے اور اگلا جہان کوئی نہیں تو خدا تعالیٰ کے لئے انتہا درجہ کی قربانیاں کرتے ہوئے انتہا درجہ کے بدبخت یہی لوگ تھے۔اور اگر اس دنیا کے سوا کوئی اور دنیا بھی ہے جیسا کہ اسلام کہتا ہے کہ ہے تو پھر ان کا اس دنیا سے اس طرح محروم جانا یقیناً ان کے لئے انتہا درجہ کی خوش بختی کا باعث ہے۔بہر حال کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے اس دنیا کی لذتوں کو بالکل حاصل نہیں کیا اور وہ اسی حالت میں مر گئے۔وہ اپنے سارے حساب کے اللہ تعالیٰ سے امیدوار ہیں۔اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے کچھ انعامات اس دنیا میں حاصل کر لئے اور باقی اگلے جہان میں حاصل کریں گے۔پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے دنیا تو دی مگر انہوں نے دنیا کو استعمال نہیں کیا۔جیسے حضرت عبدالرحمن بن عوف جب فوت ہوئے تو اُن کے گھر سے تین کروڑ کے قریب روپیہ نکلا۔لیکن اُن کی اپنی زندگی بالکل سادہ تھی۔وہ اکثر غریبوں اور بیکسوں کی