خطبات محمود (جلد 26) — Page 477
$1945 477 خطبات محمود ان میں سے کوئی بھی میرا مطلب نہ سمجھ سکا بلکہ وہ اس کے معنے بتا کر آگے چلے جاتے۔مجھے اُس روز سات وقت کا فاقہ تھا اور میری حالت سخت خراب تھی۔میں حیران تھا کہ کیا کروں۔جس حد تک سوال کر سکتا تھا اُس حد تک میں نے سوال کر دیا تھا لیکن کسی کو بھی اصل حقیقت کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی۔ہر ایک تقریر کر کے آگے چلا جاتا ہے۔میرے دل میں یہی خیالات موجزن تھے کہ مجھے پیچھے سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی اور اسکے ساتھ ہی یہ الفاظ میرے کان میں پڑے۔ابوہریر گا! بھو کے ہو ؟ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے گھر کے دروازہ پر کھڑے تھے۔میں نے آپ کو دیکھ کر کہا یار سول اللہ ! سات وقت سے فاقہ ہے۔فرمانے لگے آج ہمیں کسی نے دودھ کا پیالہ تحفہ کے طور پر بھیجا ہے آؤ تمہیں پلائیں۔جب میں آپ کے پاس گیا تو فرمایا پہلے مسجد میں جا کر دیکھو کوئی اور تو بھوکا نہیں؟ اگر ہو تو اُس کو بھی ساتھ لیتے آؤ۔میں نے جا کر دیکھا تو چھ آدمی بیٹھے تھے۔میں نے دل میں کہا اب تو شامت آئی۔دودھ کا پیالہ ایک ہے اور پینے والے سات ہیں حصہ رسدی کے طور پر کچھ ملا بھی تو کیا ملے گا۔خیر میں اُن سب کو ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور سمجھا کہ دودھ کا پیالہ شاید پہلے مجھے دیا جائے گا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کسی اور آدمی کو پیالہ دے دیا اور فرمایا پیئیں۔میں نے کہا اب تو خیر نہیں۔اگر تقسیم کر کے ملتا تو شاید کچھ حصہ مل جاتا مگر اب تو پیالہ کسی اور کو مل گیا ہے وہ دودھ کہاں چھوڑے گا۔اُس نے دودھ پیا اور پی کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔آپ نے دوسرے کو دے دیا۔پھر تیسرے کو پھر چوتھے کو اور پانچویں کو۔جب بھی کسی دوسرے کو پیالہ ملتا میں کہتا کہ میں مرا۔یہاں تک کہ سب نے دودھ پی لیا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ! اب تم پیو۔میں نے جب پیالہ پینے کے لئے لیا تو دیکھا کہ وہ لبالب بھرا ہوا ہے۔کچھ پیالہ بھی بڑا ہو گا اور کچھ اللہ تعالیٰ نے بھی اُس میں برکت پیدا فرما دی اور اس طرح اپنا نشان دکھا دیا۔ابوہریرہ کہتے ہیں میں نے دودھ پیا اور اتنا پیا کہ میرا پیٹ بھر گیا لیکن پیالہ ابھی بھرا ہوا تھا۔میں نے سیر ہو کر دودھ کا پیالہ رکھ دیا۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ ! اور پیو۔میں نے پھر پیا اور اتنا پیا کہ میرا و