خطبات محمود (جلد 26) — Page 467
$1945 467 خطبات حمود واقفیت ہو جائے تو پھر لوگ ہمیشہ تحقیقات نہیں کیا کرتے۔میں حیران ہوں کہ تاجر لوگ اِن باتوں کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں لیکن پھر بھی اُنہیں اِس طرف توجہ دلانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔بہر حال ہمارے محکمہ تجارت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اسے مناعوں سے تحریک کرتے رہنا چاہیے اور بار بار لوگوں کو کہنا چاہیے کہ جو لوگ انہیں نمونے بھیجیں اُن کو وہ بنیاد کے طور پر استعمال کریں۔اور اپنی تجارت کی اس پر بنیاد رکھیں۔اور میں جماعت کے تاجروں اور صناعوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ محکمہ تجارت سے تعاون کریں اور اپنی چیزوں کے نمونے اسے بھیج دیں۔جن لوگوں کے نمونے آئیں گے ہم انکے لئے کوشش کریں گے کہ ہندوستانی اور بیرونی ممالک میں جہاں جہاں ہمارے آدمی موجود ہیں وہاں ان کے نمونے بھجوادیں۔پھر جس جس ملک سے مانگ آئے گی اُس کو مہیا کرتے چلے جائیں گے۔پس جن لوگوں نے تجارت کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں اُن کو گھبرانا نہیں چاہیے اور جلدی نہیں کرنی چاہیے۔جوں جوں ان کے لئے کام نکلتا آئے گا ہم ان کو بلاتے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تینوں کی گھبراہٹ فضول ہے۔یعنی زندگیاں وقف کرنے والوں کی جلدی کرنا اور گھبر انا فضول ہے ہم ان کے بلانے کے لئے آہستہ آہستہ انتظام کر رہے ہیں۔اور تاجروں اور صناعوں کا بخل بھی غلط ہے۔انہیں اپنے نمونے بھیجنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔اور محکمہ تجارت کو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اگر احمدی تاجر اور صناع ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے تو کوئی حرج نہیں۔ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے پاس بہت کام ہے اور تمام تجارت انہیں کے ہاتھوں میں ہے اُن سے مل کر اپنے لئے تجارت کا میدان تیار کرنا چاہیے۔احمدیوں کے پاس تو تجارت کا ایک فیصدی بھی نہیں بلکہ ایک فیصدی تو کیا احمدیوں کے پاس تجارت کا کروڑواں حصہ بھی نہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ کروڑویں حصے کا 1/10 حصہ بھی احمدیوں کے پاس نہیں۔پس ان کے تعاون نہ کرنے سے گھبر انا خلاف عقل ہے۔“ (الفضل 7 نومبر 1945ء) 1: کنٹری: Kinnuari اس کو Kanauri اور Kanor کے تلفظ سے بھی لکھا جاتا ہے۔یہ وہ زبان ہے جو انڈیا کے صوبہ ہماچل پردیش کے Kinnaur ضلع میں بولی جاتی ہے۔اور