خطبات محمود (جلد 26) — Page 424
$1945 424 خطبات حمود ہمارے ساتھ چل کر ہمارے مولوی صاحب سے بات کرو کیونکہ ہم اس کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔بس یہیں سے بحث شروع ہو جائے گی۔پھر جنازے کا سوال آجائے گا۔اس پر مذ ہبی بحث شروع ہو جائے گی۔اگر تاجر نوجوان ہوئے اور اُن کے بیوی بچے نہ ہوئے تو ان میں سے کوئی کہے گا آپ نے ابھی تک شادی نہیں کی ہم میں شادی کر لیں۔وہ کہے گا احمدیت ہمارا مذہب ہے اور ہم تو شادی احمدیوں میں ہی کریں گے اور پھر بحث شروع ہو جائے گی۔پس یہ دو تین سوال ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے احمدیت کو چھپایا ہی نہیں جا سکتا۔جب کبھی نماز کا موقع آئے گا اور ہم اُن کے ساتھ نماز نہیں پڑھیں گے۔یا اگر جنازہ کا موقع آئے گا اور ہم ان کے جنازے میں شامل نہیں ہوں گے۔یا شادی بیاہ کا معاملہ ہو گا اور ہم انکار کریں گے تو احمدیت کی بات شروع ہو جائے گی۔لوگ کہتے ہیں کہ ان مسائل سے ہم نے اسلام میں تفرقہ پیدا کر دیا ہے۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ بغیر ان مسائل کے تبلیغ ہو ہی نہیں سکتی۔کتنا ہی گونگا احمدی کیوں نہ ہو ان مسائل کی وجہ سے تبلیغ پر مجبور ہو جاتا ہے۔مولوی مبارک علی صاحب جو جرمنی میں تبلیغ کے لئے گئے تھے ان کے دل میں ہمیشہ مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق شبہ رہتا تھا اور وہ خطوں میں اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔میں انہیں جواب دیتا کہ ابھی ٹھہر جائیں جب ہندوستان میں آئیں گے تو دیکھا جائے گا۔ایک دفعہ اُن کا خط آیا کہ اب مجھ کو کفر و اسلام کا مسئلہ سمجھ آ گیا ہے اور وہ اس طرح کہ یہاں قانون کے ایک بہت بڑے پروفیسر ہیں۔اتنے بڑے کہ آسٹریلیا اور امریکہ کی یونیورسٹیاں بھی انہیں تقریروں کے لئے بلاتی ہیں۔میں نے اُن کو مختلف مسائل بتائے جو ہمارے اور غیر مبائعین کے درمیان ما بِهِ النزاع ہیں۔مگر مسئلہ کفر و اسلام کا ذکر نہ کیا۔جو مسئلہ میں بیان کرتا وہ کہہ دیتے یہ تو معمولی بات ہے۔تمہاری چھوٹی سی جماعت ہے لیکن بڑی ایڈوانسڈ (Advanced) جماعت ہے، تمہیں چاہیے کہ آپس میں مل کر تبلیغ کرو۔جب سارے مسائل ختم ہو گئے اور پھر بھی وہ یہی کہتے رہے تو آخر میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ ایک اور مسئلہ بھی ہے جس میں اُن کا اور ہمارا اختلاف ہے۔اور وہ یہ ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نہ ماننے والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔اس پر وہ بڑے جوش میں