خطبات محمود (جلد 26) — Page 402
$1945 402 خطبات محمود مفید ہو گی۔پس اگر ہماری جماعت کے تاجر بھی منظم ہو جائیں تو ان کی ترقی کے لئے بہت بڑے بڑے اور نئے نئے راستے کھل جائیں گے۔اگر منظم صورت میں نہ رہو گے تو اکیلا انسان کوئی حقیقت نہیں رکھتا چاہے کروڑ پتی کیوں نہ ہو۔ہندوستان میں بعض کروڑ پتی ایسے ہیں جو امریکہ کے کروڑ پتیوں سے کم نہیں مگر امریکہ کے کروڑ پتیوں کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔اس لئے کہ امریکہ کے کروڑ پتی کے ساتھ ہزار ہا لاکھ پتی بھی ہوتے ہیں۔مگر ہندوستان کے کروڑ پتی کے دائیں بائیں کوئی بڑا آدمی نہیں ہو تا۔اِس لئے اُس کی سنی جاتی ہے اور اس کو کوئی نہیں پوچھتا۔تو تنظیم بڑی چیز ہے افسوس ہے کہ ایک سال گزر گیا مگر جماعت نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔شاید یہ وجہ ہے کہ ان میں سے جو کامیاب تاجر ہیں انہوں نے یہ سمجھا کہ کیا ہم ان سے سیکھیں گے یا ان کو سکھائیں گے۔ہم تو خود کامیاب تاجر ہیں محکمہ ہمیں کیا سکھلائے گا۔محکمہ کا انچارج دس روپے تو کمانے کے قابل نہیں۔اُن کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ تنظیم کمانے کے قابل نہیں ہوا کرتی۔وہ کونسی چیمبرز آف کامرس ہے جس نے آپ روپیہ کمایا ہو ؟ اور وہ کونسی ٹریڈ ایسوسی ایشن ہے جس نے خود روپیہ کمایا ہو ؟ چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ ایسوسی ایشن روپیہ نہیں کمایا کرتی۔وہ تنظیم کر کے تاجروں کو ایک نئی طاقت دیتی ہے۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ اس کے چلانے والے اپنی ذات میں ماہر نہیں ایسی ہی بات ہے جیسے لیبر پارٹی اپنے افسر مز دور مقرر کر دے۔اب سر کر پس مزدوری کیا جائیں ؟ مگر لیبر پارٹی سمجھتی ہے کہ اس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے ایسے لوگوں کے دماغوں کی ضرورت ہے جو تنظیم کرنے کے اہل ہوں۔خواہ وہ ہمارے پیشے کے نہ ہوں۔تو مرکز چاہے تجارت سے ناواقف ہو مگر تنظیم بغیر مرکز کے کوئی نہیں کر سکتا۔لاہور اور دہلی کے تاجر ہمارے سارے ہندوستان کے تاجروں کی تنظیم کس طرح کر سکتے ہیں۔اُن کی سُنے گا کون۔لیکن مرکز کو یہ فضیلت حاصل ہوتی ہے اور اس کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ہر تاجر کو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونے کو کہے اور اس حکم پر کوئی تاجر احمدی رہتے ہوئے اس تنظیم سے باہر نہیں رہ سکتا۔لیکن ابھی ہم جبر نہیں کرتے ہم اخلاص سے سب کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اگر جبر کرنا ہو تو کر سکتے ہیں۔لیکن لاہور، دہلی، کلکتہ یا