خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 387

$1945 387 خطبات محمود سکتی ہیں۔مگر اس کو جو اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں فنا کرنے کے لئے تیار ہو جائے، جو اپنے آپ کو اسلام کے لئے مٹادینے پر آمادہ ہو جائے، جو طلحہ کی طرح اپنے جسم پر تیر کھانے کے لئے تیار ہو اور سی سی نہ کرے تاکہ کوئی تیر اسلام کے جسم پر نہ جا پڑے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو ان نعمتوں کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ساتھ مقدر ہیں حاصل کر سکتے ہیں۔مگر جو تلواروں کے سایہ کے نیچے چلنے کے لئے تیار نہیں، جو پل صراط پر سے جو تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے گزرنے کے لئے تیار نہیں، جو کانٹوں کے فرش پر ننگے پاؤں چلنے کے لئے تیار نہیں وہ ان نعمتوں کی امید نہیں رکھ سکتا۔عور تیں جو اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو ذبح کرنے پر آمادہ ہوں وہ اس جنت کے دروازے میں داخل ہو سکتی ہیں۔وہ مرد جو اپنے ہاتھوں سے اپنے خویش و اقارب کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں وہ اس انعام کو حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن وہ نہیں جو شرطیں لگائے، جو قدم اٹھانے سے پہلے اپنے انجام کے متعلق پوچھنا چاہے۔میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے اس وقت حوالہ یاد نہیں کہ ایک شخص کا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب لے گا اور حساب لینے کے بعد کہے گا اے میرے بندے! میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے جہنم میں ڈالا جائے۔جا اور اس میں کود جا۔اس بندے میں اور تو کمزوریاں ہوں گی لیکن خدا تعالیٰ کی محبت میں وہ دوسروں سے پیچھے نہیں ہو گا۔جب اللہ تعالیٰ اسے کہے گاتو دوزخ میں گود جا تو وہ کہے گا اے میرے رب! اگر تیری یہی مرضی ہے تو میں کودتا ہوں۔جب وہ دوزخ میں کو دے گا تو دوزخ اس کے لئے یوں بن جائے گا جیسے جنت ہوتی ہے اور اسے آگ کے شعلے نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہی تکلیف دیں گے۔بلکہ وہ اس میں ایسی لذت حاصل کرے گا جو جنتی جنت میں حاصل کرتا ہے۔ہر مومن جب خدا تعالیٰ کے لئے بے شرط قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے اور اپنی جان، آبرو و عزت خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو کوئی دوزخ اُس کے راستہ میں نہیں آسکتی۔وہ تو ایک تریاق ہے جس کو ملتا ہے اسے اچھا کر دیتا ہے، جس آگ پر گرتا ہے اس کو بجھادیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے متعلق جو یہ فرمایا ہے کہ يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمًا 3 تو اس کا یہ مطلب تھا کہ ابراہیم کی ذات وہ ہے جسے خدا تعالیٰ کے راستہ میں کوئی تکلیف محسوس