خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 386

+1945 386 خطبات محمود اُس کو ٹنڈا کہتے ہیں۔اسی شخص نے یا کسی اور نے اس موقع پر کہا کہ وہ ٹنڈا مارا گیا۔ایک صحابی نے جو اس بات کو سن رہے تھے کہا کم بخت! تجھے معلوم ہے کہ وہ ٹنڈا کیسے ٹنڈا ہوا تھا؟ جنگ اُحد کے موقع پر جب ایک غلط فہمی کی وجہ سے صحابہ کا لشکر میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور کفار کو یہ معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف چند افراد کے ساتھ میدانِ جنگ میں رہ گئے ہیں تو قریباً تین ہزار کافروں کا لشکر آپ پر چاروں طرف سے امڈ آیا اور سینکڑوں تیر اندازوں نے کمانیں اٹھا لیں اور اپنے تیروں کا نشانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ کو بنالیا تاکہ تیروں کی بوچھاڑ سے اس کو چھید ڈالیں۔اُس وقت وہ شخص جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو کھڑا کیا وہ طلحہ تھا۔طلحہ نے اپنا ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا اور ہر تیر جو گرتا تھا بجائے آپ کے چہرہ پر پڑنے کے طلحہ کے ہاتھ پر پڑتا تھا۔اس طرح تیر پڑتے گئے یہاں تک کہ زخم معمولی زخم نہ رہے اور زخموں کی کثرت کی وجہ سے طلحہ کے ہاتھ کے پٹھے مارے گئے اور ان کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔2 تو جس کو تم حقارت کے ساتھ ٹنڈ ا کہتے ہو اس کا ٹنڈا ہونا ایسی نعمت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس برکت کے لئے ترس رہا ہے۔طلحہ سے کسی نے پوچھا ایک تیر پڑنے سے انسان کی جان نکلنے لگتی ہے لیکن آپ کے ہاتھ پر پے در پے اور متواتر تیر ڑ رہے تھے کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور آپ کے منہ سے سی سی نہیں نکلتی تھی؟ طلحہ نے کہا درد بھی ہوتی تھی اور دل سی سی کرنے کو بھی چاہتا تھا مگر میں اس لئے ایسا نہیں کرتا تھا کہ جب انسان ہائے کرتا ہے یا سی سی کرتا ہے تو درد کی وجہ سے ہاتھ ہل جاتا ہے اور میں ڈرتا تھا کہ میر ا ہاتھ ہلا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیر لگ جائے گا۔رض یہی وہ قربانیاں تھیں جنہوں نے صحابہ کو صحابہ بنایا۔یہی وہ قربانیاں تھیں جنہوں نے ان کو وہ درجہ عطا کیا کہ دنیا کے پردہ پر کم ہی مائیں ایسی ہوں گی جو شاذ و نادر کے طور پر ایسے بچے جنیں۔دنیا کے لئے دوسرا بہترین موقع رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے اتر کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا زمانہ ہے۔جو برکتیں دنیا میں کسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے سوا حاصل نہیں ہو سکتی تھیں آج حاصل ہو