خطبات محمود (جلد 26) — Page 382
1945 382 خطبات محمود 199 شریک کر لے گا۔لیکن وہ جنہوں نے کہا اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قَعِدُونَ۔اللہ تعالیٰ کبھی پسند نہیں کرے گا کہ ایسے نا پاک لوگ اس کی تخت نشینی میں شامل ہوں اور ان کے ناپاک ہاتھ اس کے سر پر تاج رکھیں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا دُور کر وان ناپاک ہاتھوں کو میں ان کے ذریعے اپنی تخت نشینی نہیں چاہتا۔تمہارے دل میں میری کوئی وقعت نہیں تھی۔پس اللہ تعالیٰ اپنی تخت نشینی اس شخص کے ہاتھ سے کرائے گا جو آج اسلام کا شیخ الاسلام ہے، جس کے دل میں اسلام کا درد ہے اور جو دن اور رات اس فکر میں رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت جلد دنیا میں قائم ہو۔جب موجودہ بادشاہ کے والد کی تاج پوشی کی رسم دہلی میں ادا کی گئی۔تو میں اُس وقت بچہ ہی تھا۔جب بادشاہ دربار میں آیا تو ایک بہت بڑا رئیس تھا جسے بادشاہ کی آمد کا اعلان کرنے پر مقرر کیا گیا تھا۔وہ بگل کبھی ادھر منہ کر کے بجاتا اور کبھی دوسری طرف۔اور جب وہ صاحب اس طرح بادشاہ کی آمد کا اعلان کرتے تھے تو دوسرے رؤساء اُن پر رشک کرتے تھے کہ کتنا عزت کا کام ان کے سپرد کیا گیا ہے۔حالانکہ عام حالات میں بگل بجانا کوئی عزت کی چیز نہیں سمجھی جاتی۔لیکن بادشاہ کی تخت نشینی پر ٹرمپیٹر (Trumpeter) ہونا بڑی عزت کی چیز سمجھا جاتا ہے۔اگر دنیا کے بادشاہوں کے ٹرمپیٹر کی یہ عزت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا ٹرمپیٹر ہونا کتنا عزت کا مقام ہے۔مگر ہر شخص اس کا مستحق نہیں ہو سکتا۔یہ اعزاز بھی انہی لوگوں کے سپرد ہو گا جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کریں گے اور اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اسلام اور احمدیت کے لئے فنا کر دیں گے۔پس پہلے استحقاق پیدا کرو تا اللہ تعالیٰ یہ کام تمہارے سپر د کر دے۔غرض ہماری جماعت کو اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی تخت نشینی کا ٹر مپیٹر مقرر کر دے۔آج اللہ تعالیٰ شیخ الا سلام یا آرچ بشپ کا عہدہ اُسی کو دے گا جس کے متعلق وہ یہ سمجھے گا کہ یہ میرا دیوانہ عاشق ہے۔اور اپنی تخت نشینی کے وقت ٹرمپیٹر کا عہدہ انہی لوگوں کے سپر د کرے گا جو اس وقت خدا تعالیٰ کے لئے اپنے دل کی آواز تک کو دبا دیتے ہیں اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ قرار دے گا کہ وہ اس کی تخت نشینی کے اعلان