خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 364

خطبات محمود ووووو ووووو 364 +1945 کہ وہ ملکوتی گروہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ شیطانی اور متکبر گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب مبعوث ہوئے تو دنیا میں بہت سے لوگ ایسے تھے جن کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بہت نیک، متقی اور عبادت گزار ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم اسجدوا کے ماتحت سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قرب سے دور جا پڑے۔پس اسجدوا الادم کے معنے یہ ہیں کہ آدم کی اطاعت اور فرمانبرداری میں لگ جاؤ۔یہ معنے نہیں کہ آدم کو سجدہ کرو۔یہ معنے تو قرآن کریم کی تعلیم کے صریح خلاف ہیں کہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔کیونکہ سجدہ خدا کے سوا کسی دوسرے کے لئے جائز نہیں۔یہ شرک ہے اور شرک ایسی چیز نہیں کہ ہمارے زمانہ میں ہی منع ہوا ہو بلکہ ابتدا سے منع ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ ابتدا میں شرک جائز تھا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ اب ایک ہے اور پہلے دو یا تین تھے۔حالانکہ یہ بات بالبداہت باطل ہے۔کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے شرک کو جائز قرار دیا ہو۔جزئیات میں بے شک اختلاف ہو سکتا ہے مثلاً کسی وقت خنزیر کے گوشت کے متعلق حرمت کا حکم نازل نہ ہوا ہو۔یا کسی قوم میں شراب جائز ہو۔مگر خدا کے ایک ہونے میں تو کسی نبی کی تعلیم میں اختلاف نہیں۔ވ މ ވ ވ މ ވ پس اسجدوا کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ آدم کے ساتھ مل کر اجتماعی صورت پیدا کرو۔اور اکٹھے ہو کر کامل طور پر اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔در حقیقت اُسْجُدُوا کی واو میں ہی تمام راز مضمر ہے۔اُسجدوا کا حکم اُسی وقت دیا جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم مبعوث ہو جاتا ہے۔اس کے آنے پر جو شخص اُسجد پر عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس شعر کو میرے دل پر نازل فرما کر یہ بتایا ہے کہ میں نے ہی تجھے خلیفہ بنایا ہے۔کیونکہ ملائکہ نے آدم پر ہی رشک کیا تھا نہ کسی اور پر۔گویا دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق کر دی ہے کہ واقع میں ہم نے اس آدم کو صفات الہیہ کے ظہور کے لئے کھڑا کیا ہے اور ملکوتی صفات کے انسان اس پر رشک کریں گے اور یہ بھی بتا دیا کہ وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو اس کے ساتھ مل کر سجدہ کریں گے اور اسکے احکام کے ماتحت چلیں گے۔جیسا کہ پہلے آدم