خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 363

+1945 363 خطبات حمود ہوتا ہے۔اس شعر کا دوسراحصہ یہ ہے۔وہ آپ مجھ سے ہے کہتا نہ ڈر قریب ہوں میں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اس پورے شعر سے ہو۔لیکن اگر دوسرا حصہ مراد نہ بھی ہو تو یہ مصرع بھی اپنے اندر ایک بہت بڑی خوشخبری رکھتا ہے کہ: ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں ملائکه در حقیقت رشک کرتے ہیں نفس آدم پر۔قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے کہ نفس انسانیت کے نمائندے جب دنیا میں پیدا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ملائکہ صفت انسانوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کے حکم کی تعمیل میں سر بسجود ہو جائیں۔قرآن مجید کی آیات اپنے اندر کئی بطون رکھتی ہیں۔اور ایک ایک آیت کئی کئی معارف کی حامل ہوتی ہے۔بظاہر قرآن مجید کی آیات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ کو آدم کی خاطر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔لیکن اصل میں اللہ تعالیٰ نے اس جگہ یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ کا کوئی خلیفہ دنیا میں کھڑا ہوتا ہے تو ملائکہ صفت لوگوں کو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا جاتا ہے۔بے شک وہ لوگ نبی کے آنے سے پہلے عبادت گزار ہوتے ہیں، ملائکہ صفت ہوتے ہیں، احکام الہیہ بجالاتے ہیں لیکن صرف اُسجز پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی فرداً فرداً اعمالِ صالحہ بجالاتے ہیں۔مگر اکٹھے ہو کر ایک وجود اور ایک جماعت کی حیثیت میں سجدہ نہیں کر رہے ہوتے۔لیکن جب آدم دنیا میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتہ سیرت انسانوں کو اسجد کی بجائے اسجدوا الدم ) کا حکم دیتا ہے۔یعنی اب تم میں آدم پیدا ہو گیا ہے تم میں سے کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ علیحدہ علیحدہ طور پر سجدہ کرے۔اب وہی سجدہ قبول ہو گا جو آدم کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ نبی کی بعثت سے پہلے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر نیک اور فرشتہ سیرت ہوتے ہیں اور دنیا کہتی ہے وہ بڑے نیک، بڑے زاہد اور عبادت گزار ہوتے ہیں۔مگر جب آدم پیدا ہو جاتا ہے تو نیک و بد کا امتیاز کر دیا جاتا ہے۔کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آدم کے ساتھ مل کر سجدہ کرتا ہے وہ ملائکہ میں داخل ہو جاتا ہے۔اور جو آدم کے ساتھ مل کر سجدہ نہیں کرتا اس کے متعلق معلوم ہو جاتا ہے ووووو