خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 357

$1945 357 خطبات محمود پر آرے رکھ کر اُن کو چیر دیا گیا لیکن وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔2 اور یہ ادنیٰ بشاشت ایمان ہے۔جب ادنی بشاشت ایمان یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان تک بھی قربان کرنے سے دریغ نہ کرے تو اعلیٰ بشاشت ایمان کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کیا کیا قربانیاں کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔بہر حال ہمارے لئے ابھی ان ادفی بشاشت ایمان والی قربانیوں کا کرنا ضروری ہے۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جماعت ابھی اس قابل نہیں ہوئی اس لئے ابھی جانی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اصل میں تو ایک مومن دس کافروں پر بھاری ہے۔3 لیکن چونکہ تم میں ابھی کمزوری اور ضعف ہے اس لئے اب تم میں سے ایک مومن کو کم سے کم دو کافروں کے مقابلہ سے نہیں بھاگنا چاہیے۔تو ہر ایک کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقدر ہوتا ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس کام کے کرنے کا اللہ تعالیٰ حکم دے دیتا ہے۔جماعت کے بعض لوگوں سے یہ بات سن کر کہ ہمارے لئے یہی رستہ مقدر ہے جس پر ہم چل رہے ہیں میں حیران ہوتا ہوں کہ میں ان کی اس سمجھ پر روؤں یا ہنسوں۔کیونکہ حماقت کی بات پر بعض دفعہ انسان کو ہنسی بھی آجاتی ہے اور بعض دفعہ رونا بھی۔میری بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔جب میں جماعت کے بعض لوگوں کی یہ ذہنیت دیکھتا ہوں کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اسی رستہ پر چلتے چلتے ایک دن ساری دنیا پر غالب آجائیں گے تو میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ کیسی حماقت کی بات ہے۔آج تک کوئی قوم اس رستہ پر چل کر کامیاب نہیں ہوئی جس پر ہم چل رہے ہیں۔صرف ایک مثال افغانستان کی قربانی کی ہمیں کامیاب نہیں کر سکتی۔جب تک کہ ہر ملک اور ہر قوم میں افغانستان جیسی قربانیاں پیش نہ کی جائیں گی اُس وقت تک ہم کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔جس طرح بارش برستی ہے اور بے تحاشا ہر طرف پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے اور کوئی آدمی اس پانی کے بہنے پر تعجب نہیں کرتا اور اُسے کوئی انوکھی چیز نہیں سمجھتا۔اسی طرح ہمیں اپنے مال، اپنی جانیں بے دریغ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہانی پڑیں گی۔اور ہر وہ شخص جو اِس رستے پر چلنا نہیں چاہتا اور کامیابی کو اس راستہ سے حاصل نہیں کرنا چاہتا میں اُسے بتادیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔وہ دشمن ہے احمدیت کا، وہ دشمن