خطبات محمود (جلد 26) — Page 28
+1945 28 خطبات محمود ہوا کرتی ہیں۔یعنی جب تک ہندوستان کی مختلف قومیں اس موت کو قبول نہ کریں گی انہیں دائمی اور پائیدار زندگی حاصل نہیں ہو سکتی۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہندوستان کے رہنے والے یہ محسوس کریں کہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے ترقی کے رستے کھول دیئے ہیں۔اگر وہ آج ان سے فائدہ اٹھائے تو اسے ایسی قوت حاصل ہو سکتی ہے کہ اس کی آواز دنیا میں زیادہ سے زیادہ وزنی قرار دی جانے والی آواز بن سکتی ہے۔وہ موقع ترقیات کا جو آج ہندوستان کو مل رہا ہے وہ اس ملک کے پہلے لوگوں کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔صرف ہاتھ لمبا کرنے کی دیر ہے اور اس امر کی ضرورت ہے کہ ہاتھ کی وہ انگلیاں جو ٹوٹی ہوئی ہیں ایک دوسری کے ساتھ جڑ جائیں۔اس وقت تو یہ حالت ہے کہ اگر ہندوستان کو ایک ہاتھ قرار دیا جائے تو اس کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ہندو، مسلمان، سکھ ، عیسائی اور دوسری قومیں اس ہاتھ کی انگلیاں ہیں جو ٹوٹی ہوئی ہیں۔اور تم کسی چیز کو انگلیوں کے بغیر نہیں پکڑ سکتے۔انگلیوں پر بغیر کسی دوسرے کی مدد سے تم کسی چیز پر بوجھ تو ڈال سکتے ہو مگر کسی چیز کو پکڑ نہیں سکتے۔پکڑنا اور گرفت کرنا انگلیوں کے بغیر ممکن نہیں۔جب تک تمام انگلیاں ہتھیلی کے ساتھ جڑ نہ جائیں اس ملک کو وہ عظیم الشان کامیابیاں حاصل نہیں ہو سکتیں جو سامنے دکھائی دے رہی ہیں اور صرف ہاتھ بڑھانے سے حاصل ہو سکتی ہیں۔اس وقت ہندوستان میں جو سیاسی فساد پھیلا ہوا ہے وہ ہم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے گو ہماری جماعت سیاسی جماعت نہیں ہے اس وقت پنجاب میں ہندو مسلم اختلافات کے علاوہ مسلمانوں میں آپس میں بھی اختلافات ہیں۔مسلم لیگ اور زمیندارہ لیگ کا ایک نیا جھگڑا شروع ہو گیا ہے گویا پہلے جو اختلافات تھے وہ کافی نہ تھے۔اتحاد کا جامہ جتنا چاک تھا اب اس کی دھجیاں اور بھی اڑائی جا رہی ہیں۔وہ دھجیاں ہماری تسلی کا موجب نہیں ہو سکتی تھیں۔جب تک کہ جامہ کی تار تار الگ نہ ہو جائے اور اتحاد کے سوت کا ہر دھاگا علیحدہ علیحدہ نہ ہو جائے اُس وقت تک چین نہیں آسکتا تھا۔زمانہ تو یہ تھا کہ ہندو مسلمان اور دوسری قومیں بھی ایک دوسرے سے صلح کر لیتیں۔مگر ہو یہ رہا ہے کہ مسلمان مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں اور اسی طرح خواہ اوپر سے نظر نہ آئے ہندو ہندو بھی آپس میں پھٹ رہے ہیں۔اور اتحاد کی طرف قدم اٹھانے کے بجائے اختلافات کو بڑھایا جا رہا ہے۔