خطبات محمود (جلد 26) — Page 27
+1945 27 خطبات حمود فائدہ ہوتا ہے۔پس یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں دونوں کو چاہیے کہ اس امر کو یاد رکھیں کہ صلح اور جنگ دونوں صورتوں میں جو فوائد انگلستان کو ہندوستان سے پہنچ سکتے ہیں وہ کسی اور ملک سے نہیں پہنچ سکتے۔اور ہندوستان کو جو مدد انگلستان سے مل سکتی ہے وہ کسی اور ملک سے نہیں مل سکتی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان بغیر ایک زبر دست طاقت کی مدد کے ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ابھی اسے دسیوں سال چاہئیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے۔پس میں پھر دونوں کو نصیحت کرتا ہوں باوجود یہ جاننے کے کہ اس معاملہ میں میری نصیحت ہوا میں اُڑنے والی چیز ہے۔مگر اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ کبھی ایک کمزور آواز بھی اثر پیدا کر دیا کرتی ہے۔اور پھر اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ سچی بات کا پہنچانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ تا قوموں پر حجت تمام ہو سکے۔اور بعد میں ان کے دلوں میں ندامت اور شرمندگی پیدا ہو کہ وقت پر ہم نے نصیحت کو کیوں نہ مانا۔میں پھر یہ آواز اٹھاتا ہوں کہ انگلستان اور ہندوستان اپنے اختلافات بھلا کر آپس میں جلد از جلد صلح کر لیں۔یہ صحیح ہے کہ ہماری جماعت کو سیاسیات سے کوئی واسطہ نہیں مگر یہ بات جو میں اب کہنے لگا ہوں سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔اور دنیا میں صلح اور امن کی بنیادوں کے قائم ہونے کا موجب ہے۔دنیا میں صلح کی سکیم اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہندوستان کی مختلف قومیں آپس میں صلح نہ کرلیں۔اگر انگلستان ہندوستان سے صلح کرنا بھی چاہے تو موجودہ صورت میں کس سے کرے۔کیا ہندوؤں سے وہ صلح کرے؟ مگر کیا مسلمان ہندوستان کے باشندے نہیں ہیں؟ پھر کیا وہ مسلمانوں سے صلح کرے؟ تو کیا ہند و اس ملک میں نہیں رہتے ؟ پس ضروری ہے کہ ہندوستان کی مختلف قومیں آپس میں صلح کریں۔مسلمان و ہندو، کانگرس و مسلم لیگ اور دوسری سیاسی پارٹیاں پہلے آپس میں صلح کریں۔موجودہ حالات میں ہندوستان کی قوموں کے آپس میں اختلافات ایسی شدت اختیار کر چکے ہیں کہ دماغوں کو سکون نصیب نہیں اور جب صلح کے سوال پر غور کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں تو غصہ میں آجاتے ہیں۔اختلافات اتنے شدید ہیں کہ ان کو دور کرنا ہر قوم کو موت نظر آتا ہے۔مگر بعض اہم زندگیاں بعض اعلیٰ درجہ کی زندگیاں اور بعض پائیدار زندگیاں موت سے گزرنے کے بعد ہی حاصل