خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 338

$1945 338 خطبات حمود کیا ہمارا گزر جانا کوئی نئی چیز ہے؟ کیا پہلی قوموں میں سے لوگ مرتے نہیں رہے ؟ کیا کسی ترقی کرنے والی قوم یا کسی قربانی کرنے والے انسان نے کبھی کہا ہے کہ ہماری زندگی میں یہ کام ہو گیا۔تو ہم اسے کر دیں گے اور اگر ہماری زندگی میں نہ ہوا تو ہم نہیں کریں گے صرف مُردہ دل لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں انجام دکھاؤ۔پھر ہم قدم اٹھائیں گے۔زندہ قومیں یا زندہ افراد اس بات کو دل میں بھی نہیں لاتے۔وہ کہتے ہیں ہم اس کام کو شروع کرتے ہیں۔اگر ہم مر گئے تو دوسرے لوگ ہماری جگہ سنبھال لیں گے اور اس کام کو جاری رکھیں گے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اِس کام کی بنیاد قائم کرنا ہی ہمارے لئے عزت کا موجب ہے۔مثلاً شاہجہان نے تاج محل بنوایا۔میں سمجھتا ہوں کہ اُس نے روپے کا اسراف کیا۔اور ایسی چیز پر روپیہ خرچ کیا جس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔لیکن جہاں تک عمارت بنانے کا سوال ہے اُس نے عظیم الشان نشان دنیا میں چھوڑا۔فرض کرو شاہجہان کو یہ یقین ہو تا کہ میرے مرنے کے بعد صرف سو سال یا دو سو سال تک تاج محل قائم رہے گا اس سے زیادہ اس کا نشان دنیا میں قائم نہ رہے گا تو بھی وہ کہتا کہ سویا دو سو سال تک جلوہ دکھا جانا بھی کوئی چھوٹی بات نہیں۔لیکن اس کے مقابل پر مومن کے لئے تو غیر محدود زندگی اور غیر محدود انعام ہیں۔اور مومن کا اندازہ دنیا کے اندازے سے نرالا ہوتا ہے۔غیر مومن لوگ اپنے کاموں کا اندازہ بیس پچیس یا پچاس یا سو سال تک لگاتے ہیں۔کچھ لوگ اور زیادہ اندازہ لگاتے ہیں تو ہزار سال تک اپنی ترقی کی امید رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے لئے انہیں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ہٹلر کی امنگوں اور اس کے جذبات اور اس کی بیداری کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اس زمانہ کا ایک غیر معمولی انسان تھا جس کے اندر ایک ایسی آگ تھی جو اپنے گر دو پیش کی سینکڑوں میل تک کی چیزوں کو بھسم کرتی چلی جاتی تھی۔وہ آگ نہ تھی بلکہ کہنا چاہیے کہ وہ ایک آتش فشاں پہاڑ تھا جس نے اپنے سارے ملک کو ہلا دیا۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کے اُس کا اندازہ یہ تھا کہ وہ اپنے ملک اور اپنی قوم کو ایک ہزار سال کے لئے محفوظ کر جائے۔اور اپنے ملک اور قوم کو ایک ہزار سال تک محفوظ کرنے کے لئے اُس نے اور