خطبات محمود (جلد 26) — Page 337
$1945 337 خطبات محمود غیر معمولی حادثات نہیں کہلا سکتے۔لیکن بچے کا ماں کے پیٹ سے باہر آنا ایک غیر معمولی حادثہ سمجھا جاتا ہے۔گو جوان آدمی کی طاقتوں اور بچے کی طاقتوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے اور جوان اور بچے کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔بچہ ایک انگلی بھی نہیں ہلا سکتا اور جو ان آدمی پہاڑ بھی کاٹ سکتا ہے۔پس گو یہ ایک بہت بڑا فرق ہے لیکن بچپن سے جوانی کی طرف جانا نسبتاً ایک سہل اور نرم راستہ پر چلنے کے مترادف ہے جو یکساں طور پر چلتا چلا جاتا ہے۔مگر بچے کا پیدائش کے ذریعہ اس دنیا کی زندگی میں آنا ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے اس کے لئے یہ دنیا نئی ہوتی ہے، یہ منزل نئی ہوتی ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے انسان دنیا میں مشکل سے مشکل حالات میں سے گزرتا ہے لیکن ان سے اتنا خائف نہیں ہو تا جتنا موت سے ڈرتا ہے۔حالانکہ موت بھی تو ایک تبدیلی کا نام ہے۔انسان کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ اس دنیا سے دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔لیکن موت سے ہر انسان خائف ہوتا ہے اور اس لئے خائف ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے مقام کی طرف جارہا ہوتا ہے جس کے متعلق اُسے کچھ علم نہیں ہوتا۔اس لئے اُسے یہ تبدیلی ہیبت ناک معلوم ہوتی ہے۔بہر حال جس طرح استقرار حمل ایک نئی تبدیلی ہے، جس طرح بچے کی پیدائش ایک نئی تبدیلی ہے اسی طرح موت کے بعد انسان کا اس دنیا سے دوسری دنیا میں چلے جانا بھی ایک نئی تبدیلی ہے۔اور یہ تینوں مرحلے ہر قوم کو پیش آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا الہام بطور استنقرار حمل کے ہوتا ہے۔جس طرح حمل کا استقرار کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہو تا اسی طرح الہام کا نازل ہونا کسی بندے کے اختیار میں نہیں ہو تا۔جب اللہ تعالیٰ کا الہام آتا ہے تو دنیا میں بڑے بڑے تغییرات کا موجب بنتا ہے۔گمنام اور غیر معروف قوم الہام الہی پر ایمان لانے کی وجہ سے غیر معمولی طور پر اپنا وجود ظاہر کرتی ہے اور اپنی پیدائش کے وقت تمام دنیا سے اپنے وجود کا اقرار کرا لیتی ہے۔غرض استقرار حمل سے وجود قائم ہوتا ہے اور پیدائش سے وہ وجو د دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں یہ بیس سال کا عرصہ ہمارے لئے اہم ترین زمانہ ہے۔کئی ہم میں سے ایسے ہوں گے جو اس بیس سال کے عرصہ میں دنیا سے گزر جائیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ