خطبات محمود (جلد 26) — Page 329
$1945 329 خطبات محمود پیش کرنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو تیار ہونا چاہیے اور پختہ ارادہ کر لینا چاہیے کہ ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے میں تیار رہوں گا۔اور حقیقی اسلام یعنی احمدیت کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں گا۔اس کے متعلق بہت کچھ تفاصیل میں بیان کر چکا ہوں اور بہت کچھ ابھی رہتی ہیں۔جن کو خدا تعالیٰ نے زندگی دی تو آئندہ بیان کر دیا جائے گا۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تم میں سے ہر شخص جو اس خطبہ کو سن رہا ہے اور ہر وہ شخص جس کو یہ خطبہ پہنچے وہ اپنے دل میں نہیا کرلے کہ میں صرف سابقہ غفلت اور ندامت پر آنسو نہیں بہاؤں گا بلکہ اب جو نیا موقع پیدا ہوا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی بارش کے مقابلہ میں اپنی عقیدت کے نئے پھول پیش کروں گا۔اگر جماعت ایسا کرے تو ہماری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہو ہو سکتا۔کیونکہ ہمارے ارادے کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ارادہ بھی شامل ہو چکا ہے۔اور جہاں دو چیزیں مل جائیں وہاں کا میابی بالکل یقینی ہوتی ہے۔چاہیے کہ تم میں سے ہر شخص حسب توفیق صبح شام یا دوسرے دن یا ہفتہ یا مہینہ یا سال میں ایک بار اپنے نفس سے سوال کرے کہ کیا اس جنگ عظیم کے نشان کے بعد میں نے کوئی نیا پھول خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کیا ہے جو اس سے پہلے میں پیش نہ کیا کرتا تھا۔مجھے اِس وقت اس سلسلہ میں ایک لطیفہ یاد آگیا ہے جو ہے تو معمولی لیکن میرے دل پر بڑاثر رکھتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے میں عصر کی نماز پڑھ کر مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے اتر رہا تھا۔حضرت خلیفہ اول سامنے چوک میں کھڑے تھے۔آپ نے مجھے اترتے دیکھ کر آواز دی۔میاں! ادھر آؤ۔ایک شخص میاں بگا ہوا کرتا تھا جو آب فوت ہو چکا ہے وہ بھی حضرت خلیفہ اول کے پاس ہی کھڑا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے مجھے بلا کر فرمایا میاں بگا مجھے ملا ہے اور کہتا ہے کہ میرے نکاح کا سب انتظام ہو گیا ہے صرف تھوڑی کسر باقی ہے وہ آپ پوری کر دیں۔اس پر میں نے اُسے مبارک باد دی اور پوچھا کہ کیا انتظام ہوا ہے ؟ تو اُس نے کہا میں بھی نکاح کے لئے راضی ہو گیا ہوں اور میری ماں بھی راضی ہو گئی ہے اب آپ لڑکی اور روپے کا انتظام کر دیں۔پھر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا دو کا انتظام تو میاں بگے نے خود کر لیا ہے اور دو کا انتظام تم کر دو۔تو دیکھو لوگ بغیر کسی سامان کے بھی کامیابی کی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔لیکن ہماری کامیابی