خطبات محمود (جلد 26) — Page 311
$1945 311 خطبات محمود 1945ء بھی ہے اب ہم اِس نئے موڑ پر ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس سال متواتر نئے نئے نشانات دکھائے ہیں اور وہ نشانات ایسے ہیں جو دنیا کی عظیم الشان قوموں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اور یہ سال بنیاد ہے ہمارے حملہ کی جو ہم دنیا پر کرنے والے ہیں۔نتائج خواہ کتنے شاندار ہوں مگر بنیاد اپنی جگہ پر بہت اہمیت رکھتی ہے۔بیٹا خواہ کتناہی بڑا کیوں نہ ہو جائے باپ کی عزت اُس پر واجب ہوتی ہے۔اسی طرح جس سال میں کسی چیز کی بنیاد رکھی جاتی ہے وہ سال بہت اہم ہوتا ہے۔اور جس سال نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ سال بھی اہمیت رکھتا ہے۔اگر وہ بنیاد ہونے کے لحاظ سے خصوصیت رکھتا ہے تو یہ نتائج کے ظاہر ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ایک بنیاد آج سے تین سال پہلے ڈالی گئی تھی اور وہ مخفی تھی اس سال میں جمعے جمع کر دیئے گئے تھے۔پھر دوسرا سال آیا جو میری پیدائش کے دن سے شروع ہو تا تھا اُس میں میرے مصلح موعود ہونے کی خبر دی گئی تھی۔اب تیسرے سال میں مختلف عظیم الشان پیشگوئیاں یکے بعد دیگرے پوری ہوئی ہیں اور اس سال میں ایسے رستے کھولے گئے ہیں جو جماعت کو ترقی کی طرف لے جانے والے ہیں۔یہ سال ہمارے لئے ٹرننگ پوائنٹ (Turning Point) ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک نیا زاویہ پیدا کر دیا ہے جس سے ہم دنیا کو نئے رنگ اور نئے پیرائے میں مخاطب کریں گے۔اور نئے رنگ اور نئے پیرائے میں دنیا پر حملہ کریں گے۔اور یہ سال اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری جماعت کی فتح اور کامیابی کے لئے ایک نیا قدم ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے ان نشانات کے ذریعہ اپنا ظہور فرمایا ہے وہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم اسکے ظہور سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ قربانی اور زیادہ سے زیادہ ایثار کو کام میں لائیں اور اس کے فضلوں کو جذب کریں۔کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنی برکتوں اور اپنی رحمتوں کو نازل فرماتا ہے تو بندے کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔انہی مواقع کے متعلق کہا گیا ہے کہ کبھی تو بادشاہ گالی پر بھی خوش ہو جاتے ہیں اور کبھی ثناء پر بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔یہ مواقع بہت نازک ہوتے ہیں۔اُس وقت انسان کے لئے نادر موقع ہو تا ہے۔تھوڑی سی بات سے خدا تعالیٰ کا بے انتہا قرب حاصل کر سکتا ہے۔مگر اس موقع پر تھوڑی سی بات سے خدا تعالیٰ کی نظروں سے گر بھی سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم